امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے صارفین کی پرائیویسی اور ذاتی ڈیٹا کے استعمال سے متعلق اپنے بعض قوانین میں تبدیلی پر اتفاق کرلیا ہے، جس کے بعد جرمنی میں کمپنی کے خلاف کئی سال سے جاری تحقیقات ختم کردی گئی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جرمنی کے وفاقی کارٹل آفس نے ایپل کی جانب سے نئے اقدامات کی منظوری کے بعد تحقیقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت آئی فون اور آئی پیڈ پر تھرڈ پارٹی ایپس کی جانب سے صارفین کا ذاتی ڈیٹا اشتہارات کے لیے استعمال کرنے سے متعلق رضامندی کے طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے گی۔
جرمن حکام کا مؤقف تھا کہ ایپل کا ایپ ٹریکنگ ٹرانسپیرنسی، یعنی اے ٹی ٹی نظام، کمپنی کی اپنی ایپس کو تھرڈ پارٹی ایپس کے مقابلے میں صارفین سے ڈیٹا استعمال کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے معاملے میں زیادہ سازگار پوزیشن فراہم کرتا ہے۔ حکام کو خدشہ تھا کہ یہ طریقہ مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے۔
تھرڈ پارٹی ایپس کے لیے رضامندی کا طریقہ تبدیل ہوگا
نئے اصولوں کے تحت تھرڈ پارٹی ایپس میں صارفین کو دکھائے جانے والے رضامندی کے پاپ اَپ کا انداز زیادہ غیر جانب دار رکھنا ہوگا۔ ایسی زبان اور علامات کے استعمال سے گریز کرنا ہوگا جو صارفین کو رضامندی دینے سے روکنے یا اس سے حوصلہ شکنی کا تاثر دیں۔
نئے ضوابط کے تحت تھرڈ پارٹی ایپ ڈویلپرز کو ایپل کی لازمی ڈیٹا رضامندی کی درخواست کے ساتھ اپنی الگ پرائیویسی رضامندی کی درخواست شامل کرنے کی بھی زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔
جرمن حکام کے مطابق ایپل کو فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیے جانے کے بعد تبدیلیاں نافذ کرنے کے لیے چار ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ ان اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی ایک مقرر کردہ ٹرسٹی کرے گا جبکہ نئے ضوابط سات سال تک نافذ رہیں گے۔
ایپل نے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں یورپی یونین کے تقریباً تمام ممالک میں لاگو ہوں گی۔ کمپنی کے مطابق جرمن حکام کی درخواست پر رضامندی کے پاپ اَپ کے متن اور ڈیزائن میں پہلے ہی تبدیلیاں کی جاچکی ہیں۔
دوسری جانب تھرڈ پارٹی ایپ ڈویلپرز، جن میں میٹا پلیٹ فارمز بھی شامل ہے، صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کو ڈیجیٹل اشتہارات کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔ ان کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ صارفین کی دلچسپیوں کے مطابق دکھائے جانے والے اشتہارات عمومی نوعیت کے اشتہارات کے مقابلے میں زیادہ آمدنی حاصل کرسکتے ہیں۔
ایپل کے ایپ ٹریکنگ ٹرانسپیرنسی نظام پر یورپ میں پہلے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ فرانس اور اٹلی کے حکام اس فریم ورک پر بالترتیب 15 کروڑ یورو اور 9 کروڑ 86 لاکھ یورو کے جرمانے عائد کرچکے ہیں۔
جرمنی کا تازہ فیصلہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ یورپ میں بڑی ٹیک کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے ڈیٹا کے استعمال، پرائیویسی اور ڈیجیٹل اشتہارات کے نظام پر مسابقتی حکام کی نگرانی مزید سخت ہورہی ہے۔