یو اے ای کا ایران کے ساتھ تجارتی اور مالی معاملات معطل کرنے کا اعلان

یو اے ای کا ایران کے ساتھ تجارتی اور مالی معاملات معطل کرنے کا اعلان

 خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی، کاروباری اور مالی معاملات تاحکم ثانی معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق یہ فیصلہ علاقائی صورتحال اور امن و سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی، کاروباری اور مالی سرگرمیوں کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق موجودہ صورتحال علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کے یو اے ای پر حملے کی ویڈیو جعلی نکلی ، بھارتی ایکس اکاؤنٹ کی گمراہ کن پوسٹ بے نقاب

اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ تجارتی اور مالی معاملات معطل کرنے کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے حوالے سے صورتحال انتہائی حساس ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برسوں کے دوران سفارتی اور اقتصادی روابط میں بہتری دیکھی گئی تھی تاہم حالیہ علاقائی حالات نے ایک مرتبہ پھر تعلقات کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

اس سے قبل منگل کے روز متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی سمت دو بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ان میں سے ایک میزائل متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود کے اندر گرا جبکہ دوسرا میزائل سمندری حدود سے باہر جا کر گرا۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کے حملے خطرناک اشتعال انگیزی ،جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، یو اے ای

اماراتی حکام کی جانب سے میزائل حملوں کی اطلاع کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال پر تشویش مزید بڑھ گئی۔ وزارت دفاع نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات کسی بھی قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ملک کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

تجارتی اور مالی معاملات کی معطلی کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف شعبوں میں کاروباری سرگرمیاں اور تجارتی روابط موجود رہے ہیں اس لیے اگر یہ پابندیاں طویل عرصے تک برقرار رہتی ہیں تو ان کے معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کی طرف سے یو اے ای پر 4 کروز میزائل فائر کئے گئے،اماراتی وزارت دفاع

تاہم اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق موجودہ فیصلہ تاحکم ثانی نافذ رہے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ معاملات کی بحالی کے حوالے سے آئندہ فیصلہ خطے کی صورتحال اور متعلقہ حکام کے جائزے کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ علاقائی ممالک کے لیے بھی موجودہ حالات تشویش کا باعث ہیں کیونکہ کسی بھی مزید فوجی پیش رفت سے خطے میں امن، تجارت اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

editor

Related Articles