پاکستانی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے لیے آئرلینڈ میں قانونی طور پر ملازمت حاصل کرنے کے نئے مواقع سامنے آگئے ہیں جہاں کریٹیکل اسکلز ایمپلائمنٹ پرمٹ کے تحت اکاؤنٹنگ، آڈٹ اور ٹیکس کے شعبوں سے وابستہ اہل پاکستانی پیشہ ور افراد روزگار کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ متعلقہ حکام کے مطابق یہ سہولت مخصوص تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ مہارت اور تجربہ رکھنے والے امیدواروں کے لیے دستیاب ہے۔
پاکستانی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے لیے آئرلینڈ میں ملازمت کے مواقع
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ آف پاکستان کے مطابق آئرلینڈ نے ملک میں ملازمت کے خواہشمند پاکستانی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے لیے ایسے مواقع فراہم کیے ہیں جن کے ذریعے اہل افراد آئرلینڈ میں رجسٹرڈ آجر کے ساتھ ملازمت حاصل کرکے کریٹیکل اسکلز ایمپلائمنٹ پرمٹ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
یہ پروگرام بالخصوص ان افراد کے لیے اہم ہے جو اکاؤنٹنگ، آڈٹ، ٹیکس، مالیاتی انتظام، ضوابط کی پابندی اور متعلقہ شعبوں میں عملی مہارت رکھتے ہیں۔ درخواست گزاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقررہ پیشہ ورانہ اور تجربے کی شرائط پوری کرتے ہوں۔
آئی کیپ کے مکمل ارکان کے لیے اہم موقع
معلومات کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان یعنی آئی کیپ کے مکمل ارکان مخصوص شرائط کے تحت اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایسے چارٹرڈ یا سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس اور ٹیکس ماہرین اہل ہوسکتے ہیں جنہیں ٹیکس، کمپلائنس، ریگولیشن، سالوینسی، فنانشل مینجمنٹ یا کسی متعلقہ شعبے میں خصوصی مہارت حاصل ہو۔
اسی طرح ایسے امیدوار بھی اہل ہوسکتے ہیں جن کے پاس کم از کم تین سال کا آڈٹ کا تجربہ موجود ہو بشرطیکہ انہیں یو ایس جی اے اے پی رپورٹنگ اور عالمی آڈٹ و ایڈوائزری سروسز کا متعلقہ تجربہ حاصل ہو۔ اس صورت میں ملازمت کی پیشکش کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی عالمی آڈٹ سروسز سے متعلق ہونی چاہیے۔
ٹیکس ماہرین کے لیے بھی مواقع
نان ای ای اے ٹیکس کمپلائنس کے ماہر ٹیکس کنسلٹنٹس کے لیے بھی مخصوص شرائط رکھی گئی ہیں۔ ایسے افراد متعلقہ پیشہ ورانہ یا قانونی ٹیکس قابلیت کے ساتھ کم از کم تین سال کا متعلقہ تجربہ رکھتے ہوں تو وہ بھی اس پروگرام کے تحت اہلیت حاصل کرسکتے ہیں۔
دو سال کی ملازمت کی پیشکش لازمی
درخواست دینے کے لیے آئرلینڈ میں رجسٹرڈ آجر کی جانب سے کم از کم دو سال کی مستند ملازمت کی پیشکش بنیادی شرط ہے۔ اہل کریٹیکل اسکلز پیشوں کے لیے کم از کم سالانہ معاوضہ 40 ہزار 904 یورو مقرر کیا گیا ہے جبکہ درخواست سے قبل گزشتہ 12 ماہ کے دوران متعلقہ قابلیت حاصل کرنے والے بعض حالیہ گریجویٹس کے لیے کم از کم معاوضے کی حد 36 ہزار 848 یورو ہوسکتی ہے۔
آجر کے لیے بھی اہم شرط
اس کے علاوہ آجر کے کم از کم 50 فیصد ملازمین کا یورپین اکنامک ایریا کے شہری ہونا بھی عمومی شرط ہے تاہم انٹرپرائز آئرلینڈ یا آئی ڈی اے آئرلینڈ کی معاونت یافتہ بعض نئی کمپنیوں کو اس شرط سے استثنا حاصل ہوسکتا ہے۔
درخواست دینے کا طریقہ اور فیس
کریٹیکل اسکلز ایمپلائمنٹ پرمٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے لیے لیبر مارکیٹ نیڈز ٹیسٹ ضروری نہیں ہوتا۔ امیدوار کو مجوزہ ملازمت شروع ہونے سے کم از کم 12 ہفتے قبل آن لائن درخواست جمع کرانا ہوتی ہے جبکہ درخواست کی پروسیسنگ فیس ایک ہزار یورو مقرر ہے۔
اس پروگرام میں اہل افراد کے خاندان کے حوالے سے بھی نسبتاً سازگار سہولیات موجود ہیں۔ کریٹیکل اسکلز پرمٹ رکھنے والے افراد خاندان سے دوبارہ ملنے کے لیے متعلقہ امیگریشن قواعد کے تحت سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔ اہل شریک حیات یا پارٹنر بھی مقررہ امیگریشن قواعد کے مطابق علیحدہ ایمپلائمنٹ پرمٹ کے بغیر کام کرنے کی اجازت حاصل کرسکتا ہے۔
پہلے آجر کے ساتھ نو ماہ کام کرنا ہوگا
پرمٹ حاصل کرنے والے فرد سے عموماً پہلے آجر کے ساتھ کم از کم نو ماہ کام کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ اس مدت سے پہلے ملازمت تبدیل کرنا عام حالات میں ممکن نہیں ہوتا اور صرف مخصوص حالات میں اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
اسٹیمپ 4 کے حصول کا بھی موقع
مقررہ مدت تک ملازمت اور دیگر قانونی شرائط پوری کرنے کے بعد پرمٹ ہولڈر اسٹیمپ 4 کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اسٹیمپ 4 ملنے کی صورت میں متعلقہ شخص کو مزید ایمپلائمنٹ پرمٹ کے بغیر آئرلینڈ میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
شہریت خودکار طور پر نہیں ملے گی
تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ کریٹیکل اسکلز ایمپلائمنٹ پرمٹ یا اسٹیمپ 4 حاصل کرنا آئرلینڈ کی شہریت کی خودکار ضمانت نہیں ہے۔ طویل مدتی رہائش اور شہریت کے لیے الگ قانونی تقاضے اور اہلیت کی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔
پاکستانی ماہرین کے لیے اہم موقع
یہ موقع خاص طور پر پاکستان کے ان چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، آڈیٹرز اور ٹیکس ماہرین کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے جو بین الاقوامی سطح پر اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ امیدواروں کو درخواست دینے سے قبل اپنی قابلیت، تجربے، ملازمت کی پیشکش، معاوضے اور آئرلینڈ کے امیگریشن قواعد سے متعلق تمام شرائط کی مکمل تصدیق کرنی چاہیے تاکہ درخواست کے عمل میں کسی رکاوٹ سے بچا جا سکے۔