ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف نام نہاد معاشی جنگ کا اعلان امریکا کے لیے مزید شکست کا باعث بنے گا۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف معاشی جنگ کا اعلان امریکا کے اپنے بحران سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی اقتصادی پابندیوں کو اقتصادی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی معیشت اور دنیا بھر کے ممالک کی خود مختاری کے لیے خطرہ ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان کے ساتھ ایک امریکی اخبار کی گزشتہ روز کی پوسٹ بھی شیئر کی، جس میں امریکی قرضوں کے 40 ٹریلین ڈالرز تک پہنچنے کا ذکر کیا گیا تھا۔
عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبروں کے مطابق امریکہ کا قومی قرض 40 ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کر چکا ہے، امریکی محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق 18 اگست تک مجموعی قومی قرض تقریباً 40.05 ٹریلین ڈالر تھا۔ یعنی گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران امریکہ کا قرض دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف انتہائی سخت معاشی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے غیر معمولی معاشی دباؤ ڈالا جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف ایسی معاشی کارروائی کی جا رہی ہے جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی، امریکی صدر نے اسے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر معاشی جنگ اور عالمی سطح پر تنہائی کی حکمت عملی قرار دیا۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی قسم کی مالی یا کاروباری مدد فراہم کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ممالک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری کمپنیوں، ہوائی اڈوں یا دیگر ذرائع کے ذریعے ایران کے لیے سہولت کاری کریں گے، ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔