خیبر پختونخوا میں ایک ماہ کے دوران دہشت گرد حملوں میں 80 فیصد اضافہ

خیبر پختونخوا میں ایک ماہ کے دوران دہشت گرد حملوں میں 80 فیصد اضافہ

سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران خیبر پختونخوا میں جولائی 2026 کے 59 دہشت گرد حملے اگست میں بڑھ کر 106 ہوگئے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے پر بضد ہیں۔ بڑھتے حملوں اور نمایاں سیاسی سرگرمیوں کے درمیان صوبائی حکومت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ 

2013 میں تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا میں تبدیلی کا وعدہ لے کر اقتدار میں آئی تھی۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے حکومتی تجربے کے بعد صوبے کی موجودہ قیادت سے پولیس، انتظامیہ اور شہری تحفظ کے نظام کی کارکردگی کا حساب مانگنا ناگزیر ہے۔

سہیل آفریدی نے 15 اکتوبر 2025 کو وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھایا۔ تب سے صوبائی حکومت کے اختیار میں آنے والے انتظامی فیصلوں، پولیس کی تیاری اور وسائل کے استعمال کی جواب دہی ان کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ البتہ ان کی کارکردگی جانچنے کے لیے ان کے دور کے اعداد کو پہلے کے برسوں سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ پورے 2025 کے حملوں کو ان کی وزارتِ اعلیٰ کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

چار برس میں حملوں کی تعداد 3.7 گنا

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز، یعنی پی آئی پی ایس کے سالانہ اعداد پر مبنی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا بڑھتا رجحان سہیل آفریدی کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے شروع ہوچکا تھا۔

سال

دہشت گرد حملے

گزشتہ سال کے مقابلے میں تبدیلی

2021

111

—

2022

169

52.3 فیصد اضافہ

2023

174

3.0 فیصد اضافہ

2024

295

69.5 فیصد اضافہ

2025

413

40.0 فیصد اضافہ

2021 سے 2025 تک حملوں کی تعداد میں مجموعی اضافہ 272.1 فیصد بنتا ہے۔ یوں چار برس میں حملے تقریباً 3.7 گنا ہوگئے۔ صرف 2024 اور 2025 میں مجموعی طور پر 708 حملے ریکارڈ ہوئے۔ یہ اعداد نئی صوبائی قیادت کو درپیش خطرے کی شدت اور اس کے لیے پہلے سے موجود انتباہ دونوں واضح کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں سہیل آفریدی حکومت کے سامنے ذمہ داری صرف نئے اعلانات کی نہیں تھی۔ اسے بڑھتے خطرے کے مطابق پولیس کی عملی صلاحیت، حساس علاقوں کی نگرانی اور حملوں سے بچاؤ کے انتظامات بہتر بنانا تھے۔

سہیل آفریدی کے دور میں ایک ماہ کے اندر 47 اضافی حملے

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز، یعنی پی آئی سی ایس ایس کی اگست 2026 کی رپورٹ صوبے کے بندوبستی اور ضم اضلاع میں حملوں کا واضح اضافہ دکھاتی ہے۔

علاقہ

جولائی 2026

اگست 2026

اضافہ

بندوبستی اضلاع

36

54

50 فیصد

ضم اضلاع

23

52

126.1 فیصد

مجموعی خیبر پختونخوا

59

106

79.7 فیصد

صوبے میں ایک ماہ کے اندر 47 اضافی حملے ہوئے۔ ضم اضلاع میں تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہوگئی، جبکہ بندوبستی اضلاع میں بھی نصف کا اضافہ ہوا۔

تاہم اسی رپورٹ کے مطابق دونوں حصوں میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں مجموعی اموات 105 سے کم ہوکر 78 رہیں، یعنی تقریباً 25.7 فیصد کمی۔ اس لیے درست نتیجہ یہ ہے کہ حملوں کی تعداد میں شدید اضافہ ہوا، جبکہ ان دو مہینوں میں حملوں سے ہونے والی اموات کم ہوئیں۔ صرف دو ماہ کا تقابل پورے دورِ حکومت کے مسلسل اضافے یا اس کے اسباب کا مکمل ثبوت نہیں بنتا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی کو ہرقیمت روکنا ہو گا، خواہش ہے کہ صوبے میں ترقی ہو : وزیرِاعظم

یہ فرق حکومت کی جواب دہی ختم نہیں کرتا۔ حملوں کی بڑھتی تعداد خود ایک سنجیدہ مسئلہ ہے: شہریوں، پولیس اور مقامی انتظامیہ کو پہلے سے زیادہ مرتبہ دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ صوبائی قیادت کو بتانا ہوگا کہ اس اضافے کے بعد حفاظتی انتظامات میں کیا تبدیلی کی گئی۔

5 اکتوبر 2026 کی رائٹرز رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کی قیادت کر رہے تھے اور نوجوانوں کو اس میں شرکت کی دعوت دے رہے تھے۔ اس سے ان کی سیاسی تحریک میں براہِ راست شمولیت واضح ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ کی سیاسی سرگرمیوں اور صوبے میں بڑھتے حملوں کو ساتھ رکھ کر حکومت کی ترجیحات کا سوال اٹھانا جائز ہے۔ تاہم یہ نتیجہ کہ دہشت گردی کا خاتمہ ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں، دستیاب شواہد سے ثابت نہیں ہوتا؛ پولیس کے وسائل اور امن منصوبے سے متعلق ان کے بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔

اصل امتحان یہ ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ شہری تحفظ کے لیے کتنی مؤثر انتظامی قیادت فراہم ہوئی۔ مارچ کی تیاری اور کارکنوں کی تنظیم عوام کے سامنے آتی ہے۔ اسی وضاحت کے ساتھ حکومت کو پولیس کی تیاری، حساس چوکیوں کے تحفظ اور حملوں کی روک تھام کی پیش رفت بھی سامنے رکھنی چاہیے۔

2025 میں شمالی و جنوبی وزیرستان، بنوں، ٹانک، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مجموعی طور پر 248 حملے ریکارڈ ہوئے۔ یہ صوبے کے 413 حملوں کا تقریباً 60 فیصد بنتے ہیں۔ یورپی یونین ایجنسی فار اسائلم کی پاکستان سے متعلق رپورٹ بھی پی آئی پی ایس کے ان اعداد کا حوالہ دیتی ہے۔

خطرے کا اس حد تک مخصوص علاقوں میں مرتکز ہونا حکومت کے لیے وسائل کی ترجیح طے کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ عوام کو ضلع وار بتایا جانا چاہیے کہ کہاں اضافی نفری تعینات ہوئی، کن چوکیوں کا تحفظ بہتر بنایا گیا، کہاں جدید مواصلاتی اور حفاظتی سامان پہنچا اور دہشت گردی کے مقدمات کی تفتیش میں کیا بہتری آئی۔

ان تفصیلات کی دستیابی کے بغیر صوبے بھر کے مجموعی اعلانات سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کی عملی صورتِ حال سمجھنا مشکل ہے۔

35 ارب روپے اضافی وسائل، 191 ارب کا بجٹ: عملی فائدہ کتنا؟

ستمبر 2026 میں سہیل آفریدی نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ترقیاتی بجٹ سے کٹوتی کرکے پولیس کو 35 ارب روپے اضافی فراہم کیے گئے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے پولیس کا بجٹ تقریباً 191 ارب روپے رکھا گیا۔ انہوں نے ضروری سامان اور بکتر بند گاڑیوں کی فراہمی میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا۔

ان اعلانات کے بعد جانچ کا اگلا مرحلہ رقم کے اجرا، اخراجات اور اہلکاروں تک سہولتیں پہنچنے کا ہے۔ مختص بجٹ، جاری رقم، خرچ ہونے والی رقم اور موصول ہونے والا سامان چار الگ پیمانے ہیں۔

حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ اضافی وسائل سے کتنی خریداری مکمل ہوئی، کتنے اہلکاروں کو حفاظتی سامان ملا اور کن حساس مقامات کی کمزوریاں دور ہوئیں۔ جہاں فراہمی رکی ہوئی ہے، وہاں ذمہ دار ادارہ، رکاوٹ اور اسے دور کرنے کی مدت بھی سامنے آنی چاہیے۔

بجٹ میں اضافہ حکومتی اقدام ہے؛ بہتر تحفظ اس اقدام کا مطلوبہ نتیجہ ہے۔ دونوں کے درمیان تعلق کارکردگی کے ریکارڈ سے دکھانا ہوگا۔

سو دن میں امن: آغاز، اہداف اور پیش رفت کہاں ہے؟

سہیل آفریدی نے صوبائی ایکشن پلان اور پالیسی میں تبدیلی کے ذریعے سو دن میں امن بحال کرنے کی بات بھی کی ہے۔ اس کے ساتھ منصوبے کے آغاز کی تاریخ، اداروں کی ذمہ داریاں اور قابلِ پیمائش اہداف ضروری ہیں۔

عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ سو دن میں کن اضلاع میں حملے کتنے کم کرنے ہیں، پولیس کی کون سی کمزوریاں دور کرنی ہیں اور ہر ماہ پیش رفت کس پیمانے پر جانچی جائے گی۔ وفاق یا دوسرے اداروں کا تعاون درکار ہو تو متعلقہ اقدامات اور زیرِ التوا فیصلے بھی واضح کیے جائیں۔

دہشت گردی کی روک تھام میں وفاق اور سکیورٹی اداروں کی ذمہ داریاں موجود ہیں، مگر صوبائی پولیس، انتظامیہ، خریداری اور وسائل کے استعمال سے متعلق سوالات کا جواب صوبائی حکومت کو دینا ہوگا۔

سہیل آفریدی کے لیے اب بنیادی امتحان سیاسی اجتماع میں شرکت کی تعداد سے آگے ہے۔ ان کی حکومت کو دکھانا ہوگا کہ خطرے سے دوچار علاقوں میں شہریوں اور پولیس اہلکاروں کا تحفظ کتنا بہتر ہوا۔

2013 کا انتخابی وعدہ تبدیلی تھا۔ 2026 میں خیبر پختونخوا کے شہری تحفظ کے نتائج مانگ رہے ہیں۔ بڑھتے حملوں کے درمیان اس مطالبے کا جواب بجٹ، خریداری، پولیس کی تیاری اور امن و امان کی قابلِ جانچ کارکردگی سے دینا ہوگا۔

Related Articles