ایران نے امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی اہداف پر حملے کے جواب میں اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایرانی حملے میں داغے گئے تمام میزائل روک لیے گئے جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق امریکی فورسز کے خلاف یہ کارروائی حالیہ امریکی حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو اپنی جوابی کارروائی کا ہدف بنایا تاہم حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات اور اہداف کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک لیا گیا۔ حملے میں کسی امریکی اہلکار کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ایرانی حملے کے بعد اردن میں موجود امریکی فورسز کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ ممکنہ مزید حملوں کے پیش نظر دفاعی نظام کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کی سکیورٹی ایک بار پھر اہم معاملہ بن گئی ہے۔ اردن خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے اور وہاں موجود امریکی فورسز خطے کی نگرانی اور دفاعی کارروائیوں میں کردار ادا کرتی ہیں۔
ایرانی جوابی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے قبل امریکی فورسز نے ایران کے اسٹریٹجک جزیرے لارک پر فضائی حملہ کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق امریکی فورسز نے جزیرہ لارک پر پاسداران انقلاب کے دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا تھا۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا اور پاسداران انقلاب نے امریکی حملے میں ایرانی اہلکاروں اور عام شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات دیتے ہوئے حملے کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔