ایران پر امریکی حملے اور اس کے بعد ایران کی جانب سے کیے گئے جوابی حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوگیا، برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔
عالمی منڈی میں لندن برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.25 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد برینٹ خام تیل 90.96 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔
ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی بڑھی
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی 3.03 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد امریکی خام تیل 85.93 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور خطے سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے خطے میں تیل کی ترسیل اور سپلائی کا نظام متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
موجودہ کشیدگی میں آبنائے ہرمز کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈی پر براہ راست اثر انداز ہوسکتی ہے۔
لارک جزیرے پر امریکی حملہ
گزشتہ رات امریکا نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے کیلئے ایران کے لارک جزیرے پر پاسداران انقلاب کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔
ایران کا جوابی حملہ
امریکی حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایاامریکی مسلح افواج کی مرکزی کمان سینٹ کام کے مطابق لارک جزیرے میں پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی محدود اور انتہائی درست نوعیت کی تھی۔
مزید اضافے کا امکان
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی اور تیل کی سپلائی یا نقل و حمل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔