ایرانی ریال تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، ڈالر 20 لاکھ ریال سے تجاوز کرگیا

ایرانی ریال تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، ڈالر 20 لاکھ ریال سے تجاوز کرگیا

ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور فری مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 20 لاکھ ایرانی ریال سے تجاوز کرگئی ہے، جس کے باعث ایرانی عوام کی قوت خرید تیزی سے متاثر ہونے لگی ہے۔

ایران کی کرنسی طویل عرصے سے دباؤ کا شکار ہے، تاہم حالیہ عرصے میں ریال کی قدر میں ہونے والی مسلسل گراوٹ نے صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے، فری مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر 20 لاکھ ریال سے زائد میں ٹریڈ کیا جا رہا ہے۔

پابندیوں کا دباؤ

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی معیشت کئی دہائیوں سے امریکی اور دیگر بین الاقوامی پابندیوں کے باعث مشکلات سے دوچار ہے، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عائد پابندیوں نے معیشت پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔

جنگ نے مشکلات بڑھادیں

28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا، جنگ سے متعلق رکاوٹوں، سپلائی کے مسائل اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں کو مزید متاثر کیا۔

یہ بھی پڑھیں :ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل گراوٹ، ڈالر نے نیا ریکارڈ قائم کردیا

عوام کی قوت خرید متاثر

ریال کی قدر میں کمی کے باعث ایرانی شہریوں کی قوت خرید تیزی سے کم ہوئی ہے جو رقم پہلے زیادہ مقدار میں روزمرہ استعمال کی اشیا خریدنے کیلئے کافی ہوتی تھی، اب اسی رقم سے نمایاں طور پر کم اشیا خریدی جا سکتی ہیں۔

خوراک مزید مہنگی

اعدادوشمار کے مطابق جنگ سے پہلے 20 لاکھ ایرانی ریال تقریباً 4 کلو ٹماٹر، آدھا کلو چکن اور ایک لیٹر کوکنگ آئل خریدنے کیلئے کافی تھے، تاہم اب یہی رقم تقریباً ان مقداروں کا نصف خریدنے کیلئے کافی رہ گئی ہے۔

ریال کی قدر میں کمی اور معاشی بحران کے اثرات ادویات کی قیمتوں پر بھی پڑے ہیں، ضروری ادویات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے مریضوں اور ان کے خاندانوں کیلئے علاج کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔

قیمتیں مسلسل غیر مستحکم

تہران میں اوسط قیمتوں کی بنیاد پر حاصل کیے گئے اعدادوشمار میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل تبدیلی ہورہی ہے۔

معاشی بحران مزید گہرا

کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی، بین الاقوامی پابندیوں اور جنگی صورتحال کے مشترکہ اثرات نے ایرانی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ ریال کی مسلسل گرتی قدر نے عام شہریوں کی زندگی براہ راست متاثر کی ہے۔

editor

Related Articles