لٹویا میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد تقریباً 15.5 فیصد زیادہ بتائی جاتی ہے۔ آبادی میں اس غیر معمولی فرق کے باعث ’رینٹ اے ہسبنڈ‘ یعنی ’کرائے کے شوہر‘ کی سروس بھی سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
تاہم اس سروس کا نام سن کر یہ سمجھنا درست نہیں کہ یہاں کسی کو رومانوی تعلق کے لیے شوہر کرائے پر دیا جاتا ہے۔
حقیقت میں ’رینٹ اے ہسبنڈ‘ ایک ایسی سروس ہے جہاں ماہر افراد کو گھر کے مختلف کاموں کے لیے فی گھنٹہ اجرت پر بلایا جاتا ہے۔
یہ بھےی پڑھیں:میوزیم میں 100 سال سے موجود مینڈک نے سائنس دانوں کو حیران کردیا
یہ افراد گھر میں پلمبنگ کی خرابی دور کرنے، ٹی وی نصب کرنے، دیواروں پر رنگ کرنے، فرنیچر کی مرمت کرنے اور پردے لگانے سمیت مختلف کام انجام دیتے ہیں۔
یعنی ’کرائے کے شوہر‘ دراصل ماہر ہینڈی مین ہوتے ہیں جو لوگوں کے روزمرہ گھریلو کام آسان بناتے ہیں۔
لٹویا میں خواتین اور مردوں کی تعداد کے درمیان موجود فرق نے اس سروس کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے، تاہم بنیادی طور پر یہ ایک عام گھریلو سروس ہے جو لوگوں کو ضروری کاموں کے لیے ہنرمند افراد سے جوڑتی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس سروس کے چرچے کی ایک بڑی وجہ اس کا منفرد نام اور لٹویا کی غیر معمولی آبادی کا تناسب ہے۔


