باکو میں زبانوں کے درمیان پل کے عنوان سے ادبی تقریب کا انقعاد

باکو میں زبانوں کے درمیان پل کے عنوان سے ادبی تقریب کا انقعاد

باکو میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان ادبی اور ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے معروف ادیبوں کی تصانیف کے تراجم پیش کیے گئے۔

یہ تقریب سفارتخانہ پاکستان باکو کے زیر اہتمام آذربائیجان یونیورسٹی آف لینگویجز کے پاکستانی زبان و ثقافت مرکز کے تعاون سے’زبانوں کے درمیان پل‘ آذربائیجانی اردو ادبی تراجم کی تقریب رونمائی‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی۔

دونوں ممالک کی اہم تصانیف کے تراجم پیش

تقریب کے دوران پاکستانی موٹیویشنل اسپیکر اور مصنف قاسم علی شاہ کی معروف کتاب ’منزل کی طرف‘کے آذربائیجانی ترجمے کی رونمائی کی گئی۔اس کے علاوہ آذربائیجان یونیورسٹی آف لینگویجز کے ریکٹر، ماہر تعلیم اور دانشور پروفیسر کمال عبداللہ کی تصنیف’وادی طلسم‘کے اردو ترجمے کو بھی پیش کیا گیا۔ تقریب میں کہا گیا کہ ان تراجم سے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان ادبی، علمی اور ثقافتی روابط کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بڑا اقدام، ٹینیور ٹریک اساتذہ کی تنخواہوں میں بڑا اضافہ، نئی مراعات کا بھی اعلان

پاکستانی اور آذربائیجانی تعلقات پر گفتگو

تقریب کا افتتاح وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کیا۔ آذربائیجان کی پارلیمنٹ کے ارکان تمّام جعفرووا اور رضوان نبی یوف نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے عوامی اور ثقافتی روابط مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

پاکستان کے ثقافتی حسن کی نمائش

تقریب کے دوران پاکستان کے ثقافتی ورثے، تاریخی مقامات، قدرتی حسن اور خوبصورت مناظر پر مشتمل خصوصی فوٹوگرافی نمائش بھی پیش کی گئی۔ محترمہ ورجینیا مورگن حیات نے پاکستان میں اپنے تجربات اور مشاہدات شرکاء کے ساتھ شیئر کیے۔ اس موقع پر پاکستان کے ثقافتی تنوع کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم ’سلام پاکستان‘بھی دکھائی گئی، جس میں ملک کے مختلف علاقوں، ثقافت اور قدرتی حسن کو نمایاں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹریفک نظام میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان ، سخت فیصلے، افسران کو واضح حکم

پاکستانی کھانوں سے مہمانوں کی تواضع

تقریب میں شرکاء کو پاکستانی ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے روایتی پاکستانی کھانے اور مٹھائیاں بھی پیش کی گئیں، جن سے مہمانوں نے لطف اٹھایا۔تقریب میں آذربائیجان کی پارلیمنٹ کے ارکان، ماہرین تعلیم، دانشوروں، ادیبوں، طلبہ، میڈیا نمائندگان اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ادبی تراجم اور ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کی زبان، ثقافت اور فکری ورثے کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں اور پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

editor

Related Articles