انتشار، بدامنی، شر پسندی سہیل آفریدی کا وطیرہ بن گیا، حکومتی اور پی ٹی آئی وفد کے مذاکرات کے دوران ہی وزیراعلیٰ کے پی کا احتجاجی لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان

انتشار، بدامنی، شر پسندی سہیل آفریدی کا وطیرہ بن گیا، حکومتی اور پی ٹی آئی وفد کے مذاکرات کے دوران ہی وزیراعلیٰ کے پی کا احتجاجی لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل کے دوران ہی 4 اکتوبر سے گنڈی چوک لکی مروت سے احتجاجی مارچ کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ 

سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آج پھر مذاکرات ہو رہے ہیں تاکہ ملک میں افراتفری جیسے ماحول کا خاتمہ ہو لیکن اس کوشش کے باوجود  لگتا ہے کہ انتشار، بدامنی، شر پسندی سہیل آفریدی کا وطیرہ بن گیا ہے۔

تجزیہ کار اس خدشے کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں کہ موجودہ حساس ملکی حالات میں اس نوعیت کی احتجاجی سیاست ملکی مفاد میں نہیں ہے، جس سے نہ صرف معاشرے میں انتشار پھیلنے کا خطرہ ہے بلکہ ایک بار پھر ’9 مئی‘ جیسے کسی افسوسناک سانحے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست اور سیاسی تلخیوں کے سائے میں ملکی استحکام کسی صورت حاصل نہیں کیا جا سکتا، امیر حیدر ہوتی

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ ان کا یہ احتجاج قانونی حقوق کے حصول تک جاری رہے گا لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کون سے حقوق مانگ رہے ہیں۔

سہیل آفریدی نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے تمام مطالبات مکمل طور پر آئینی ہیں اور عوام کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔

تاہم، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب ایک صوبے کا چیف ایگزیکٹو وفاق کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کی قیادت کرے، تو اس سے وفاق اور صوبے کے درمیان خلیج بڑھتی ہے جو ملکی معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے کسی طور سودمند نہیں۔

ماضی کے تلخ تجربات گواہ ہیں کہ ایسے سیاسی اجتماعات عموماً پرتشدد شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس سے ریاستی املاک اور ملکی سلامتی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

سیکیورٹی اور امن و امان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ریاستی پالیسی میں تبدیلی کر کے خیبرپختونخوا میں 100 دن کے اندر امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

سہیل آفریدی نے عجیب منتطق اپناتے ہوئے لکھا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں اور نام نہاد ’کولیٹرل ڈیمج‘ سے دہشتگردی ختم ہونے کے بجائے اس میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنی اس پالیسی اور بیانیے پر چٹان کی طرح قائم ہیں۔

وفاق کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور بلوچستان حکومتیں ’ایک پیج‘ پر ہونے کے باوجود وہاں امن لانے میں ناکام رہی ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ موجودہ پالیسی تبدیل کیے بغیر امن کا قیام ناممکن ہے۔

صوبائی حکومت کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے وزرا اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، خیبرپختونخوا پولیس کو درپیش چیلنجز اور صوبے کو اسلحے کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

’9 مئی‘ کے واقعات پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ وہ نہ تو 9 مئی دوبارہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کی اجازت دیں گے۔

مزید پڑھیں:سہیل آفریدی حکومت میں تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں، احتجاج کرنے والے طلبہ پر گولیاں چل گئیں

سیاسی اور صحافتی حلقوں میں احتجاج کے اس اعلان کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، ریاست اور اداروں کے خلاف اس قدر سخت بیانیہ اپنانا اور سڑکوں کا رخ کرنا تصادم کی سیاست کو فروغ دیتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب ملک کو اندرونی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اس طرح کی احتجاجی تحریکیں انتشار اور لاقانونیت کو ہوا دے سکتی ہیں، جس سے نمٹنا ریاست کے لیے ایک نیا اور سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔

Related Articles