اپر وزیرستان میں لانگ مارچ نے پرتشدد روپ دھار لیا، پی ٹی آئی کے انتشاریوں کا پولیس پر حملہ، پتھراؤ اور سیدھی فائرنگ

اپر وزیرستان میں لانگ مارچ نے پرتشدد روپ دھار لیا، پی ٹی آئی کے انتشاریوں کا پولیس پر حملہ، پتھراؤ اور سیدھی فائرنگ

 خیبر پختونخوا کے ضلع اپر وزیرستان میں لانگ مارچ کے لیے جانے والے پی ٹی آئی اور انصاف یوتھ ونگ کے انتشاریوں نے پولیس پر اچانک حملہ کر کے شدید پتھراؤ اور سیدھی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو ز کے مطابق اپر وزیرستان سے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے قافلے کی روانگی کے دوران ماحول اس وقت اچانک پرتشدد ہو گیا جب پی ٹی آئی اور انصاف یوتھ ونگ کے کارکنوں نے وہاں تعینات پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا۔

انتشاریوں نے نہ صرف پولیس پر شدید پتھراؤ کیا بلکہ ڈائریکٹ فائرنگ بھی کی، جس سے فرائض پر مامور متعدد پولیس جوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اچانک ہونے والے اس حملے سے علاقے میں شدید بھگدڑ اور خوف و ہراس پھیل گیا۔

پولیس کی جوابی کارروائی اور آنسو گیس کی شیلنگ

پولیس پر فائرنگ اور پتھراؤ کے بعد امن و امان بحال کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے جوابی حکمتِ عملی اختیار کی۔

یہ بھی پڑھیں:پولیس ایکٹ، افغان پالیسی اورکالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق وفاق کے 9 نکات پر پی ٹی آئی نے یوٹرن لے کر مذاکرات سبوتاژ کیے، محسن نقوی نے تفصیلات جاری کردیں

مشتعل اور مسلح ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے متعدد شل پھینکے، جس کے بعد انتشاری ٹولیوں کی صورت میں ادھر ادھر چھپ گئے۔

 سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے اور پولیس پر فائرنگ کرنے والے شرپسند عناصر کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

قبائلی اضلاع میں بڑھتا سیاسی تناؤ

سابقہ فاٹا اور بالخصوص وزیرستان کا خطہ سیکیورٹی کے لحاظ سے پہلے ہی انتہائی حساس شمار ہوتا ہے، جہاں سیکیورٹی فورسز اور پولیس امن و امان کی بحالی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔

حالیہ دنوں میں صوبے میں جاری سیاسی محاذ آرائی کے باعث ان علاقوں میں بھی سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سیاسی قافلوں میں مسلح افراد کی موجودگی اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تصادم کے واقعات نے قبائلی اضلاع میں امن و امان کی نازک صورتحال کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

احتجاج اور لاقانونیت کا خطرناک رجحان

جمہوری نظام میں سیاسی احتجاج تمام جماعتوں کا مسلمہ آئینی حق ہے، تاہم اس حق کو تشدد، لاقانونیت اور مسلح تصادم کے لیے استعمال کرنا آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کی اسلام آباد پر چڑھائی، کالعدم ٹی ٹی پی کی کھل کر حمایت، دونوں کا ایجنڈا ایک، تمام حقائق کھل کر سامنے آگئے

وزیرستان جیسے حساس اور نازک علاقے میں سیاسی کارکنوں کی جانب سے پولیس پر براہِ راست فائرنگ اور پتھراؤ کا واقعہ انتہائی تشویشناک ہے۔

جب سیاسی کارکن سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف ریاست کی رٹ متاثر ہوتی ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مورال بھی مجروح ہوتا ہے۔

سیاسی قیادت پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو پرامن حد میں رکھے اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی سخت حوصلہ شکنی کرے۔

اگر سیاسی مقاصد کی حاصل کے لیے ریاست کے ضامن اداروں کو یوں نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتائج ملکی سلامتی کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔

Related Articles