سینیئر صحافی منیب فاروق نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے سنگین سیکیورٹی خدشات ہیں ، ملک کی پریمیئر انٹیلیجنس ایجنسی کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے نام پر نظر آنے والے تمام افراد پارٹی کے نہیں اور ان میں مختلف اور مشکوک پسِ منظر رکھنے والے عناصر شامل ہو سکتے ہیں۔
منیب فاروق نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ مارچ اور اجتماعات میں شامل کچھ لوگ تحریکِ انصاف سے تعلق نہیں رکھتے اور ان کے پس منظر مختلف ہیں ، اس پیغام کا لب لباب یہ ہے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیجیے، آنکھیں کھولیے، اپنی ذمہ داری کا احساس کیجیے، ورنہ نقصان اپنا بھی ہوگا اور ریاست کا بھی ، مسئلے کو اس انداز سے دیکھنے کے بجائے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
مذاکرات کا ڈیڈ لاک
منیب فاروق کی جانب سے یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے وفود کے درمیان دو دن کے مذاکرات ڈیڈ لاک پر ختم ہو گئے، منیب فاروق کے بقول مسودے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی تک رسائی، علاج کی سہولت اور قید خواتین و بیمار بزرگ رہنماؤں کے لیے ہمدردانہ غور جیسے نکات شامل تھے ، مگر دہشت گردی کے معاملے پر خیبر پختونخوا حکومت کے کردار پر اختلاف نے بات بگاڑ دی۔
اس کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا اعلان کیا، جو ابتدائی طور پر خیبر پختونخوا کے اندر رہے گا، جبکہ اسلام آباد کی طرف بڑھنے پر سخت ردعمل کی وارننگ دی جا چکی ہے۔
منیب فاروق کاکہنا تھا کہ گزشتہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور بیرسٹر گوہر خان کے درمیان 11 سے 12 ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔ مذاکرات سے پہلے ہی پسِ پردہ رابطے مسلسل جاری تھے۔
منیب فاروق کا کہنا تھا کہ ان نکات پر صوبائی حکومت کے سربراہ سہیل آفریدی سے تعاون کی بات آئی تو بڑا اختلاف پیدا ہوا، مسودے کی زبان میں تبدیلیاں ہوتی رہیں، مگر بات نہ بن سکی ، صحافی کے مطابق محمود خان اچکزئی کی جانب سے مطالبات مزید سخت کرنے کے پیغامات نے بھی عمل کو پیچیدہ بنایا اور بیرسٹر گوہر نے ذاتی ضمانت تک کی پیشکش کی، مگر نتیجہ نہیں نکلا۔
اسلام آباد مارچ پر بڑے خدشات
منیب فاروق کا بتانا تھا کہ اصل اختلاف دہشت گردی کے معاملے پر سامنے آیا ، ریاست کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا، خصوصاً ضم شدہ اضلاع، میں دہشت گردی ایک بڑا چیلنج ہے اور صوبائی حکومت نے اس میں کمزوری یا غفلت دکھائی ہے ، صوبائی حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے اور وفاقی پالیسی کو غلط قرار دیتی ہے۔
منیب فاروق کے مطابق اصل تشویش دو باتوں پر ہے جن میں خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی کے چیلنج سے دوچار ہے، اور بڑے اجتماعات ایسے حالات میں انتہائی حساس ہوتے ہیں، اس سے پہلے بھی بتایا گیا کہ اب بھی شدید تشویش یہ ہے کہ لوگوں کا ہجوم ہوگا لوگ بھی نکلیں گے ، خدشہ اس بات کا ہے کہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ نہ ہو۔
ان کاکہنا تھا کہ دوسرا خدشہ کہ کسی جگہ پر بھی جہاں ایف سی، فوج، پیراملٹری فورسز تعینات ہیں، وہاں تحریک انصاف اور ان فورسز کا آپس میں کوئی جھڑپ نہ ہو، کیونکہ خدانخواستہ اگر ایسا کچھ ہوا تو اس کے بڑے ہی سنگین نتائج نکلیں گے اور اچھا شگون نہیں ہوگا۔
دباؤ اور “آر یا پار” کا ماحول
منیب فاروق کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی پر ورکرز اور سپورٹرز کا دباؤ ہے کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں ، منیب فاروق نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ کشیدگی کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتی ہے ، ان کاکہنا تھا کہ آفریدی صاحب نے یہ کیوں کیا ہے؟ تحریک انصاف کی حکومت میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی ہے، آپ اس میں ریاست کے ساتھ ہی نہیں کھڑے ہو ،آپ نے ایکسپوز خود کو کر دیا ہے کہ مارنا دہشت گردوں کو ہے، ختم دہشت گردوں کو کرنا ہے، آپ ریاستِ پاکستان کا ساتھ ہی نہیں دے رہے، آپ اسٹیٹ کا ساتھ ہی نہیں دے رہے۔
اب آگے کیا؟
منیب فاروق کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے، جو خیبر پختونخوا کے اندر ہی رہے جبکہ حکومت کی وارننگ واضح ہے کہ اسلام آباد کا رخ نہ کیا جائے لیکن اس پوری کہانی میں سب سے بڑا نقصان کسی ایک فریق کا نہیں، عوام اور ریاست دونوں کیلئے ہی یہ نقصان ہے ، جو معاہدہ دونوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا تھا، وہ ایک نکتے پر اٹک گیا۔
ایک طرف جذبات سے بھرا ہجوم ہے، دوسری طرف ریاست، اور بیچ میں وہ نامعلوم چہرے جو آگ بھڑکانا چاہتے ہیں ، ایسے ماحول میں ایک چنگاری ہی کافی ہے ، سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کب عقل لیں گے ؟ کیا کوئی اس کھڑکی سے آنے والی روشنی کو غنیمت جانے گا، یا ہم ایک اور سانحے کے بعد پھر کہیں گے کہ کاش وقت پر ہوش کے ناخن لے لیے ہوتے؟
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے گنڈی چوک تک رسائی کے لیے موجودہ احتجاجی لانگ مارچ جاری ہے ، سوشل میڈیا پر موجود بعض انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز کی جانب سے کارکنوں کو مسلسل آگے بڑھنے اور ہر قسم کی رکاوٹیں ہٹا کر گندی چوک پہنچنے پر اکسایا جارہا ہے۔