ڈالر چھاپ ’’یوتھیوبرز‘‘ کا فرار: موجودہ لانگ مارچ میں عوام سڑکوں پر، اکسانے والے یوٹیوبرز منظر سے غائب

ڈالر چھاپ ’’یوتھیوبرز‘‘ کا فرار: موجودہ لانگ مارچ میں عوام سڑکوں پر، اکسانے والے یوٹیوبرز منظر سے غائب

پاکستان کی موجودہ سیاسی تاریخ میں سوشل میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ اور موجودہ لانگ مارچ نے اس ‘ڈیجیٹل انقلاب’ کا ایک نیا اور تلخ رخ عوام کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انقلاب کا چورن بیچنے والے اور خود کو عوام کا سچا ہمدرد ثابت کرنے والے نام نہاد ‘انقلابیوں’ کا کچا چٹھا اس وقت کھل کر سامنے آ گیا، جب سڑکوں پر اصل امتحان کا وقت آیا۔ غریب عوام اور نوجوانوں کے جذبات کو مسلسل بھڑکا کر انہیں ریاستی اداروں سے ٹکرانے کا درس دینے والے ’’ڈالر چھاپ یوتھیوبرز‘‘ عین اس کڑے وقت میں منظر سے مکمل طور پر غائب ہو گئے جب انہیں احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تھا ۔

رپورٹس کے مطابق یہ دعوے دار جو کئی دنوں سے اپنے وی لاگز اور لائیو سیشنز کے ذریعے عوام کے بچوں کو ہر صورت سڑکوں پر نکلنے، رکاوٹیں توڑنے اور آگے بڑھنے پر اکسا رہے تھے، خود اپنے ایئرکنڈیشنڈ (اے سی) کمروں اور محفوظ پناہ گاہوں سے ایک قدم بھی باہر نکالنے کی ہمت نہ کر سکے۔ ان نامور یوٹیوبرز نے اپنی کمپیوٹر اور موبائل سکرینوں کی حد تک تو انقلاب کے علمبردار بننے کی پوری اور بھرپور کوشش کی، لیکن جب زمینی حقائق اور ریاستی ایکشن کا سامنا ہوا تو ان کی اس قلعی کا پردہ چاک ہو گیا۔

عمران ریاض خان: محاذ سے غائب، سٹوڈیو تک محدود

عوام کے جذبات کو سب سے زیادہ ابھارنے والے عمران ریاض خان جو عوام کو نکلنے کا درس دیتے رہے وہ بھی اس وقت گندی چوک میں کارکنوں کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آنا چاہیے تھا لیکن وہ اب مکمل طور پر غائب ہیں۔ ان کی ساری انقلابی جدوجہد اور رہنمائی محض محفوظ ٹھکانوں اور سٹوڈیوز سے کی جانے والی لائیو سٹریمنگ اور ڈالر کمانے تک ہی محدود رہی۔

بیرون ملک مقیم ‘کی بورڈ واریئرز’ کی محفوظ پناہ گاہیں

دوسری جانب پاکستان سے ہزاروں میل دور بیرون ملک پرتعیش زندگیاں گزارنے والے کی بورڈ واریئرز نے بھی عوام کو اس سیاسی آگ میں جھونکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

میجر (ر) عادل راجہ، لندن کے فلیٹ سے ‘انقلاب’ کی کال

برطانیہ کے پرتعیش اور ٹھنڈے اپارٹمنٹس میں بیٹھ کر مسلسل اشتعال انگیز اور سنسنی خیز ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والے عادل راجہ نے کارکنوں کو اداروں پر چڑھ دوڑنے کے نت نئے گر تو خوب سکھائے، مگر خود لندن کی محفوظ فضاؤں میں بیٹھے خاموش تماشاہی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

سید حیدر رضا مہدی: کینیڈا سے ریاست مخالف بھاشن

کینیڈا سے بیٹھ کر پاکستانی نوجوانوں کو ریاست سے ٹکرانے کا طویل بھاشن دینے والے حیدر مہدی بھی اس مبینہ ‘آزادی کی جنگ’ میں عملی طور پر حصہ لینے کے بجائے ہزاروں میل دور سکرین کے پیچھے ہی مکمل طور پر محفوظ رہے۔

ڈاکٹر معید پیرزادہ: ٹکٹ کٹوانے کے بجائے صرف مشورے

واشنگٹن اور لندن کے مہنگے اور جدید سٹوڈیوز سے غریب ورکرز کو یہ باور کرانے والے کہ یہ ان کی بقا کی آخری جنگ ہے، ڈاکٹر معید پیرزادہ نے اس جنگ کی عملی قیادت کے لیے پاکستان کا ٹکٹ کٹوانے اور محاذ پر کھڑے ہونے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔

صابر شاکر: نامعلوم پناہ گاہوں سے گندی چوک پہنچنے کی ہدایات

بیرون ملک نامعلوم مگر مکمل طور پر محفوظ پناہ گاہوں سے روزانہ کی بنیاد پر ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والے صابر شاکر بھی مسلسل عوام کے بچوں کو گندی چوک پہنچنے کی کالز دیتے رہے، جبکہ ان کی اپنی ذات ہر قسم کے خطرے، گرمی اور شیلنگ سے کوسوں دور تھی۔

وجاہت سعید خان اور شاہین صہبائی: کیمرے کے گرد گھومتی جدوجہد

امریکہ کے آرام دہ اور پرسکون ماحول میں بیٹھ کر یہ دونوں صحافی بھی اپنی صحافت کے نام پر نوجوانوں کے جذبات سے کھیلتے رہے، اور ان کی یہ ساری انقلابی جدوجہد محض کی بورڈ، مائیک اور کیمرے کے لینز کے گرد ہی گھومتی نظر آئی۔

سلمان احمد: امریکہ سے پرانی تصاویر کے ذریعے پروپیگنڈا

ان سب کے علاوہ، امریکہ ہی میں مقیم موسیقار اور پی ٹی آئی کے حامی سلمان احمد بھی اس دوڑ میں پیچھے نہ رہے۔ وہ سوشل میڈیا پر پرانی، متنازعہ اور گمراہ کن تصاویر شیئر کر کے کارکنوں کے جذبات کو مسلسل ابھارتے رہے اور پروپیگنڈا کرتے رہے، مگر عملی طور پر انہوں نے بھی گندی چوک کی خاک چھاننے کی بجائے امریکہ کے محفوظ ماحول میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔

عوام کا نقصان اور یوٹیوب چینلز کی بڑھتی کمائی

اس پورے ریمورٹ کنٹرول انقلاب کا سب سے بھیانک، افسوسناک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ان یوٹیوبرز کی سنسنی خیز اور جذباتی تقاریر کے سحر میں آ کر عام غریب کارکنوں، طالب علموں اور نوجوانوں نے اپنی نوکریاں، تعلیم اور زندگیاں تک داؤ پر لگا دیں۔ ایک طرف قوم کے بچوں کو سڑکوں پر نکلنے کے نتیجے میں انسداد دہشت گردی کے سنگین مقدمات، گرفتاریوں، حوالات کی صعوبتوں اور جسمانی چوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا تو وہیں دوسری جانب ان ’’یوتھیوبرز‘‘ کے یوٹیوب چینلز کی ویورشپ، سبسکرائبرز کی تعداد اور ڈالرز کی صورت میں آنے والے بینک بیلنس میں ہوشربا ریکارڈ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

یہ منافقت کی انتہا ہے کہ دوسروں کے بچوں کو سڑکوں کی خاک چھاننے کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا، جبکہ یہ نام نہاد انقلابی خود اپنے بچوں اور اہل خانہ سمیت اے سی کمروں کے محفوظ قلعوں میں چھپ کر صرف اپنی ریٹنگز اور کمائی گنتے رہے۔

موجودہ صورتحال کا پس منظر اور گندی چوک کا افسوسناک واقعہ

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے گندی چوک تک رسائی کے لیے یہ موجودہ احتجاجی لانگ مارچ جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود بعض انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز کی جانب سے کارکنوں کو مسلسل آگے بڑھنے اور ہر قسم کی رکاوٹیں ہٹا کر گندی چوک پہنچنے پر اکسایا جارہا ہے۔

اس تمام تر کشیدہ صورتحال کے دوران گندی چوک میں جمع ہونے والے مظاہرین کے ساتھ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا۔

وزیرستان میں لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی اور انصاف یوتھ ونگ کے کارکنوں کے پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ سے متعدد اہلکار زخمی ہو گئے ، خیبر پختونخوا کے ضلع اپر وزیرستان میں لانگ مارچ کے لیے جانے والے پی ٹی آئی اور انصاف یوتھ ونگ کے انتشاریوں نے پولیس پر اچانک حملہ کر کے شدید پتھراؤ اور سیدھی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

Related Articles