تحریک انصاف کے چیئرمین اور اعلیٰ کمانڈ کی جانب سے مارچ کے لیے جو ڈینگیں ماری جا رہی تھیں اور ہر رہنما کو جتھے لانے کا حکم دیا گیا تھا اس کا حشر اتنا عبرتناک اور شرمناک ہوگا اس کا اندازہ خود پارٹی رہنماؤں کو بھی نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت نے اپنے ہر رکنِ اسمبلی اور ضلاعی صدر کو سخت ترین ہدایات دیتے ہوئے 40 سے 50 ہزار افراد کے بھاری بھرکم قافلے ساتھ لانے کا حتمی ہدف دیا تھا مگر جب میدان میں اترنے کا وقت آیا تو رہنماؤں کی ہوا نکل گئی۔
طویل ترین روٹس اور 12 سے زائد بڑے مقامات کا اعلان کرنے کے باوجود سہیل آفریدی اور ان کے سیاسی حواری عوام کو متحرک کرنے میں بالکل نالائق اور ناکام ثابت ہوئے۔
ذرائع کے مطابق اکثر نام نہاد ‘طاقتور’ رہنماؤں کے پیچھے 100 سے 200 سے زیادہ افراد موجود نہیں تھے جبکہ جن رہنماؤں نے بڑے دعوے کیے تھے ان کی گاڑیاں خالی سڑکوں پر محض ہارن بجاتی رہیں۔


