اسلام آباد کے نوری آڈیٹوریم میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی جانب سے سابق چیئرمین مرحوم انجینئر پرویز بٹ کی قومی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری ریفرنس منعقد کیا گیا، جس میں کمیشن کے اراکین، سیکریٹری، سینئر افسران، مرحوم کے سابق ساتھیوں، رفقاء، اہلِ خانہ اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے انجینئر پرویز بٹ کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا اور کمیشن سمیت پاکستان کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ مرحوم انجینئر پرویز بٹ ایک غیر معمولی ٹیکنالوجسٹ، انجینئر اور دوراندیش رہنما تھے۔ انہوں نے 2002 میں ڈائریکٹوریٹ آف سیفٹی قائم کرکے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں جوہری ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کے لیے ایک مضبوط حفاظتی نظام کی بنیاد رکھی۔
چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے کہا کہ انجینئر پرویز بٹ جوہری تنصیبات میں محفوظ اور ذمہ دارانہ عملی نظام کے فروغ کے اہم علمبرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان میں معاملات کو سمجھنے، مؤثر انداز میں بات چیت کرنے اور اہم معاملات کو کامیابی سے طے کرنے کی غیر معمولی صلاحیت بھی موجود تھی۔
انہوں نے کہا کہ انجینئر پرویز بٹ ایک ایسے شجرِ سایہ دار کی مانند تھے جن کی سرپرستی، بصیرت اور خدمات نے آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند اثرات چھوڑے۔ وہ ’’روڈ ٹو چاغی‘‘ کے ان خاموش ہیروز میں شامل تھے جن کی خدمات کو وہ شہرت نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ انجینئر پرویز بٹ کی دوراندیشی کے ثمرات آج ان منصوبوں اور اداروں کی صورت میں موجود ہیں جن کا انہوں نے تصور پیش کیا اور انہیں قائم کیا۔ ان میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن جنرل ہسپتال اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن فاؤنڈیشن شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’ایس ای ایس‘‘ اور دیگر انجینئرنگ اداروں کے قیام میں بھی انجینئر پرویز بٹ کا اہم کردار تھا، جنہوں نے ملک کو ترقی اور کامیابی کی جانب آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیوکلیئر پاور پلانٹ چشمہ یونٹ-1 نے مسلسل آپریشن کیساتھ اٹامک انرجی کمیشن کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا
یادگاری ریفرنس کے دوران انجینئر پرویز بٹ کے سابق ساتھیوں اور سینئر افسران نے ان کے شاندار پیشہ ورانہ کیریئر، قیادت اور قومی خدمات سے متعلق اپنی یادیں اور تاثرات بیان کیے۔ مقررین نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے لیے ان کی خدمات اور کردار کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
سابق جنرل منیجر کے سی پی نعمت علی جاوید، سائنسدان ایمیریٹس ڈاکٹر انعام الرحمٰن، سابق ممبر ایڈمن اینڈ بی ایس ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک، سابق ممبر انجینئرنگ اسلم عمر اور سابق ممبر پاور ضیاء الحسن صدیقی نے انجینئر پرویز بٹ کے ساتھ اپنی وابستگی اور کام کے تجربات بیان کیے۔
مقررین نے مرحوم انجینئر پرویز بٹ کی پیشہ ورانہ وابستگی، قائدانہ صلاحیتوں، قابلیت اور پاکستان کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ممبر سائنس ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے منظوم خراجِ عقیدت کے ذریعے مرحوم انجینئر پرویز بٹ کی خدمات، قومی کردار اور شاندار پیشہ ورانہ زندگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
سابق چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن محمد نعیم، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی تاریخ کی معروف شخصیت سلطان بشیر الدین محمود اور مرحوم کے صاحبزادے میجر جنرل شہریار پرویز بٹ، ڈائریکٹر جنرل ایس پی ڈی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مقررین نے انجینئر پرویز بٹ کی پیشہ ورانہ زندگی، قیادت اور پاکستان کی تزویراتی و جوہری صلاحیتوں کے لیے ان کی دیرپا خدمات کے مختلف پہلوؤں کو یاد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے درمیان چشمہ 5 نیوکلیئر پاور پلانٹ کیلئے سیف گارڈز معاہدے پر دستخط
تقریب کے آغاز سے قبل’’In the Loving Memory of a Man Who Lived for Pakistan‘‘ کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جسے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے پبلک ریلیشنز ڈائریکٹوریٹ نے تیار کیا تھا۔
دستاویزی فلم میں انجینئر پرویز بٹ کی زندگی اور پیشہ ورانہ سفر، ان کی کامیابیوں، قومی خدمات اور پاکستان سے گہری وابستگی و لگن کو اجاگر کیا گیا۔
مقررین نے انجینئر پرویز بٹ کو ایک مخلص، باصلاحیت اور کامیاب پیشہ ور قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی مہارت، تجربے اور قائدانہ صلاحیتوں کو ملک کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا۔
یادگاری ریفرنس نے انجینئر پرویز بٹ کے ساتھیوں، دوستوں اور اہلِ خانہ کو ان کی زندگی، کامیابیوں اور پاکستان کے لیے دیرپا خدمات کو یاد کرنے اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔


