خیبر پختونخوا حکومت کی نااہلی یا دہشت گردی سے پہلو تہی؟ دہشت گردی کے 3 ہزار سے زائد مقدمات زیرِ التوا

خیبر پختونخوا حکومت کی نااہلی یا دہشت گردی سے پہلو تہی؟ دہشت گردی کے 3 ہزار سے زائد مقدمات زیرِ التوا

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی تفتیش، پراسیکیوشن اور عدالتی فیصلوں کی رفتار بھی اہم سوال بن گئی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق صوبے میں دہشت گردی سے متعلق 3 ہزار سے زائد مقدمات پراسیکیوشن کے مرحلے میں زیرِ التوا ہیں۔ اس صورت حال میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کتنے مقدمات تفتیش کے مرحلے میں ہیں کتنے عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں اور کتنے کیسز کے فیصلے ہونا باقی ہیں۔ 

دوسری جانب 3 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں 380 مقدمات زیرِ التوا تھے۔ ان میں پشاور کی عدالتوں میں 164، کوہاٹ میں 76، مردان اور لوئر دیر میں مجموعی طور پر 35، ایبٹ آباد میں 29، ڈیرہ اسماعیل خان میں 27 اور سوات میں 15 مقدمات شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 کے دوران انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں نے 117 مقدمات کے فیصلے بھی کیے۔

یہ اعداد پراسیکیوشن کے مرحلے میں موجود 3 ہزار سے زائد مقدمات سے الگ عدالتی صورت حال ظاہر کرتے ہیں۔ دونوں اعداد کو جمع کرکے مجموعی تعداد قرار دینا درست نہیں، کیونکہ مقدمات مختلف قانونی مراحل میں ہو سکتے ہیں اور تازہ سرکاری اعداد و شمار کے بغیر ان کی مکمل درجہ بندی ممکن نہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 9 دسمبر 2025 کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے 14 اضلاع میں سال 2025 کے دوران دہشت گردی سے متعلق 1,588 مقدمات درج کیے گئے، جن میں 7,111 مشتبہ افراد کو نامزد کیا گیا۔ بنوں میں سب سے زیادہ 3,437 افراد کو نامزد کیا گیا، جبکہ شمالی وزیرستان میں 181، پشاور میں 163 اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 152 مقدمات درج ہونے کی اطلاع دی گئی۔ یہ اعداد درج مقدمات اور نامزد افراد سے متعلق ہیں، زیرِ التوا مقدمات کی موجودہ تعداد نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سنگین صورت حال، آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی قانونی شرائط کیا ہیں؟

دہشت گردی کے مقدمات میں تاخیر کی وجوہات جاننے کے لیے تفتیشی اداروں، محکمہ انسدادِ دہشت گردی، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام کی کارکردگی کا الگ الگ جائزہ ضروری ہے۔ مقدمات کے بروقت چالان، شواہد کی تکمیل، گواہوں کی پیشی اور مؤثر عدالتی پیروی سے ہی ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ اداروں کی جانب سے تازہ اعداد و شمار جاری کرنا بھی ضروری ہے، جن میں زیرِ تفتیش مقدمات، پراسیکیوشن کے منتظر کیسز، عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات، فیصلوں، سزاؤں اور بریت کی الگ الگ تفصیلات شامل ہوں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف کارروائیاں اور گرفتاریاں ہی نہیں بلکہ مضبوط شواہد اور بروقت قانونی فیصلے بھی اہم ہیں، تاکہ دہشت گردی میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دلائی جا سکے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles