دنیا کا وہ جزیرہ جہاں جانے سے پہلے لوگ کئی بار سوچتے ہیں، آخر یہاں ایسا کیا ہے

دنیا کا وہ جزیرہ جہاں جانے سے پہلے لوگ کئی بار سوچتے ہیں، آخر یہاں ایسا کیا ہے

اٹلی کے شہر وینس کے قریب واقع جزیرہ پوویلیا اپنی پُراسرار تاریخ، سنسان عمارتوں اور طاعون کی وبا سے جڑی داستانوں کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس جزیرے کے بارے میں کئی خوفناک کہانیاں گردش کرتی ہیں، تاہم ان میں سے بعض دعووں کی مستند تاریخی تصدیق موجود نہیں۔

طاعون کے مریضوں کو الگ رکھنے کے لیے استعمال

تاریخی ریکارڈ کے مطابق پوویلیا کو مختلف ادوار میں متعدی بیماریوں، خصوصاً طاعون، کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ وبا کے دوران مریضوں اور مشتبہ متاثرہ افراد کو دوسرے علاقوں سے الگ رکھنے کے اس انتظام نے جزیرے کی تاریخ کو ایک خوفناک رنگ دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:چیونٹیوں کی دہائیوں سے جاری جنگ، ہر سال 3 کروڑ ہلاکتوں کا حیران کن اندازہ

جزیرے کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ یہاں ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کو زندہ جلایا گیا اور اس کی مٹی کا بڑا حصہ انسانی راکھ پر مشتمل ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی مستند تاریخی تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے انہیں ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

طبی ادارے سے جڑی پُراسرار کہانیاں

بعد کے دور میں جزیرے پر ایک طبی ادارہ بھی قائم رہا۔ اس ادارے کے حوالے سے مختلف خوفناک کہانیاں مشہور ہوئیں، جنہوں نے پوویلیا کی پُراسرار شہرت کو مزید بڑھا دیا۔ تاہم جزیرے سے متعلق مشہور داستانوں اور دستاویزی تاریخی حقائق میں فرق کرنا ضروری ہے، کیونکہ ہر مشہور کہانی کے حق میں قابل اعتماد شواہد موجود نہیں۔

آج بھی تجسس کا مرکز

اپنے سنسان ماحول، تاریخی پس منظر اور پراسرار داستانوں کے باعث پوویلیا آج بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ جزیرہ عام سیاحوں کے لیے کھلا سیاحتی مقام نہیں اور وہاں رسائی محدود ہے۔ پوویلیا کی تاریخ اس بات کی مثال ہے کہ وباؤں سے جڑے تاریخی مقامات کس طرح وقت گزرنے کے ساتھ خوف، تجسس اور غیر معمولی کہانیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔

editor

Related Articles