نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دہشتگردی دنیا اور خطے کا سب سے بڑا چیلنج ہے جس کا پاکستان نے انتہائی شجاعت اور مضبوطی سے مقابلہ کیا اور ابھی بھی کر رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور معاشی چیلنجز کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے اس ناسور کے خلاف سب سے بڑی لائن آف ڈیفنس بنا ہوا ہے۔
نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی ہے۔
اس طویل اور فرسا جنگ کے دوران ملک کی معیشت کو شدید ترین نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ماضی میں ہونے والے سیاسی دھرنوں نے بھی ملکی معیشت کو مزید کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، جس کے اثرات سے نکلنے کے لیے ریاست کو سخت فیصلے کرنا پڑے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں اور انتظامی اقدامات
ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے ریاست کے تمام ستون متحرک ہیں۔ سانحہ جعفر ایکسپریس ہو یا بلوچستان میں معصوم مزدوروں کا اغوا اور ان کی شہادتیں، دشمن عناصر نے ہر سطح پر ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی۔
ان حالات میں قانون نافذ کرنے والے ادارے دن رات دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بالکل نئے خطوط پر کام شروع کیا ہے۔
دوسری جانب، عسکری سطح پر بھی غیر معمولی اقدامات جاری ہیں جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پختہ عزم رکھتے ہیں اور ان کی خصوصی ہدایات پر ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر موثر آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔
دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ ان کی زیر قیادت ہماری افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشنز کررہے ہیں۔
سرحدی سلامتی اور علاقائی تعاون کا تقاضا
خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پڑوسی ممالک بالخصوص افغانستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اسحاق ڈار نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغان رجیم پر مسلسل یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
افغان طالبان رجیم کو چاہیے کہ وہ دہشتگردوں کو اسلحہ سمیت ہر قسم کی امداد فوری طور پر بند کرے۔ دہشتگردی کے اس ناسور کے خلاف جنگ میں ہر صوبے کو اپنا بھرپور اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی جیسی تنظیمیں صوبے میں مسلسل دہشتگردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا قلع قمع ناگزیر ہے۔
پاکستان کی جانب سے دہشتگردی کے معاملے پر بات چیت کے لیے افغانستان کے دورے بھی کیے گئے تاکہ سفارتی اور سیاسی ذرائع سے اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
صوبائی امور اور مستقبل کا لائحہ عمل
خیبر پختونخوا کے حساس حالات پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے اس امر کا اعتراف کیا کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا، لیکن ملکی سلامتی اور امن کی خاطر اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں تھا۔
پاکستان نے اس طویل جنگ میں 90000 سے زیادہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور معیشت کے شدید نقصان کے باوجود خطے کے امن کے لیے جو مخلصانہ کوششیں کی ہیں، دنیا کو ان قربانیوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔
خطے کے امن کے لیے پاکستان کی ان مخلصانہ اور تاریخی کاؤشوں کو کسی بھی صورت رد نہیں کیا جا سکتا اور افغان سر زمین سے پاکستان پر ہونے والے حملے اب ہر صورت بند ہونے چاہئیں۔