چیونٹیوں کی دہائیوں سے جاری جنگ، ہر سال 3 کروڑ ہلاکتوں کا حیران کن اندازہ

چیونٹیوں کی دہائیوں سے جاری جنگ، ہر سال 3 کروڑ ہلاکتوں کا حیران کن اندازہ

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں چیونٹیوں کی دو بڑی کالونیوں کے درمیان کئی دہائیوں سے علاقائی جنگ جاری ہے، جس میں محققین کے اندازے کے مطابق ہر سال کروڑوں چیونٹیاں ہلاک ہو سکتی ہیں۔

یہ لڑائی ارجنٹائنین چیونٹیوں کے درمیان ہوتی ہے، جو اصل میں جنوبی امریکہ سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن اب کیلیفورنیا سمیت دنیا کے کئی علاقوں میں پھیل چکی ہیں۔

چیونٹیوں کی سپر کالونیاں کیا ہیں؟

عام طور پر چیونٹیوں کی کالونیاں محدود علاقے میں رہتی ہیں اور اپنے علاقے کا دفاع کرتی ہیں، لیکن ارجنٹائنین چیونٹیوں میں ایک منفرد صلاحیت پائی جاتی ہے۔ یہ ہزاروں باہم منسلک گھونسلوں پر مشتمل بہت بڑی کالونیاں بنا سکتی ہیں، جنہیں سپر کالونیاں کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:زمین سے 7.5 نوری سال دور پراسرار دنیا، جیمز ویب دوربین نے کیا دیکھ لیا

ان کالونیوں میں لاکھوں بلکہ اربوں چیونٹیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ ایک ہی سپر کالونی سے تعلق رکھنے والی چیونٹیاں کیمیائی اشاروں کے ذریعے ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں اور عموماً آپس میں لڑنے کے بجائے تعاون کرتی ہیں۔

مخالف کالونی سامنے آئے تو کیا ہوتا ہے؟

جب دو مختلف سپر کالونیوں کی چیونٹیاں ایک دوسرے کے سامنے آتی ہیں تو صورتحال بدل جاتی ہے۔ وہ مخالف چیونٹیوں کی مختلف کیمیائی شناخت محسوس کرکے ان پر حملہ کر سکتی ہیں۔

سان ڈیاگو کے قریب ارجنٹائنین چیونٹیوں پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے ایک طویل علاقائی سرحد کا مشاہدہ کیا، جہاں دونوں کالونیوں کے درمیان بار بار لڑائی ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس محاذ کے ایک سرگرم حصے میں سالانہ تقریباً 3 کروڑ چیونٹیاں ہلاک ہو سکتی ہیں۔

یہ جنگ ماحول کے لیے بھی خطرہ ہے

یہ لڑائی انسانوں کی جنگوں کی طرح منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوتی، بلکہ چیونٹیاں کیمیائی اشاروں پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے علاقے اور خوراک کے ذرائع کا دفاع کرتی ہیں۔ تاہم، لاکھوں چیونٹیوں کا اجتماعی رویہ ایک مستقل جنگی محاذ جیسی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

ارجنٹائنین چیونٹیوں کی بڑی کالونیاں مقامی چیونٹیوں کی نسلوں کو پیچھے دھکیل سکتی ہیں اور مقامی ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس کے اثرات دوسرے کیڑوں اور ان جانوروں تک بھی پہنچ سکتے ہیں جو ان پر انحصار کرتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ چھوٹے جانداروں کے سادہ انفرادی رویے، جب لاکھوں کی تعداد میں یکجا ہوتے ہیں، تو انتہائی پیچیدہ نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔

editor

Related Articles