امریکی ماہرین فلکیات نے ایک اہم سائنسی پیش رفت کرتے ہوئے مشتری کے حجم کے قریب ایک سرد فلکیاتی جسم کی فضا میں پانی کے بادلوں کی موٹائی میں تبدیلی کی پہلی براہ راست تصدیق کر دی ہے۔
تحقیقی ٹیم نے جیمز ویب خلائی دوربین کی مدد سے وائس0855 نامی براؤن ڈوارف کا تقریباً 11 گھنٹے تک مشاہدہ کیا۔ یہ فلکیاتی جسم زمین سے تقریباً 7.5 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور اب تک دریافت ہونے والے سرد ترین براؤن ڈوارفس میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا درجہ حرارت تقریباً 265 کیلون ہے۔
براؤن ڈوارف کیا ہوتا ہے؟
براؤن ڈوارف ایسے فلکیاتی اجسام ہیں جن کی کمیت عام سیاروں سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن وہ اتنے بڑے نہیں ہوتے کہ ستاروں کی طرح اپنے مرکز میں ہائیڈروجن کے جوہری امتزاج کا عمل مسلسل جاری رکھ سکیں۔
تحقیق کے مطابق وائس 0855 کی فضا میں پانی کے بادل اس کی گردش کے دوران موٹے اور پتلے ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ گہرائی میں موجود مختلف کیمیائی گیسیں بھی حرارتی عمل کے ذریعے اوپری فضا کی جانب منتقل ہوتی ہیں۔
سائنس دانوں نے ہر 15 منٹ بعد اس فلکیاتی جسم سے آنے والی روشنی کا اسپیکٹرم ریکارڈ کیا۔ اس مسلسل مشاہدے سے محققین کو اس کی فضا میں ہونے والی تبدیلیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کا موقع ملا۔
نظام شمسی سے باہر کی دنیاؤں کو سمجھنے میں مدد
یہ تحقیق سائنسی جریدے دی اسٹروفزیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دریافت سے براؤن ڈوارفس کی فضا، بادلوں اور موسمی نظام کو سمجھنے میں مدد ملے گی، جبکہ مستقبل میں نظام شمسی سے باہر موجود دیگر فلکیاتی اجسام کے ماحول کا مطالعہ بھی مزید بہتر ہو سکے گا۔