ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی بڑھتی قیمتوں اور سرکاری نرخوں پر فراہمی کے مسائل نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی میں چکی کا آٹا 200 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا ہے، جبکہ فائن آٹے کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب روٹی کی قیمت بھی بڑھ کر 30 سے 35 روپے تک پہنچ گئی ہے، جس سے شہریوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
کمشنر کراچی کے جاری کردہ نرخ نامے کے مطابق چکی کے آٹے کی سرکاری قیمت 145 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں یہ 200 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے، جو مقررہ نرخ سے 55 روپے زیادہ ہے، اسی طرح ہول سیل مارکیٹ میں 132 روپے فی کلو مقرر فائن آٹا 176 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔
راشن والا آٹا ہول سیل مارکیٹ میں 161 روپے جبکہ ریٹیل مارکیٹ میں 168 روپے فی کلو دستیاب ہے۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ روٹی بھی 30 سے 35 روپے تک فروخت ہونے لگی ہے۔
دوسری جانب فلور ملز مالکان کی جانب سے سرکاری نرخوں پر آٹے کی فراہمی نہ ہونے کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں کو قابو میں رکھنا مشکل ہورہا ہے۔
بلوچستان میں گندم کی قلت کے باعث آٹے کی قیمتیں بھی بے قابو ہوگئی ہیں۔ تین ماہ قبل 6 ہزار روپے میں دستیاب 50 کلو آٹے کا تھیلا اب 8 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ صوبے کے بعض علاقوں میں آٹے کی دستیابی بھی متاثر ہونے لگی ہے۔
ادھر ملتان میں گندم کی قیمت 5 ہزار 400 روپے فی من تک پہنچنے کے باعث آٹا 150 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں روٹی 15 روپے سے بڑھ کر 25 روپے اور نان 25 روپے سے بڑھ کر 30 روپے کا ہوگیا ہے۔ شہریوں کے مطابق 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت بھی 1700 روپے سے بڑھ کر 2200 روپے تک جا پہنچی ہے۔
فیصل آباد میں بھی گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چکی مالکان نے آٹے کی قیمت 150 روپے سے بڑھا کر 160 روپے فی کلو کردی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گندم 5 ہزار 500 روپے فی من فروخت ہورہی ہے۔ چکی مالکان کے مطابق اگر حکومت سرکاری نرخوں پر گندم فراہم کرے تو آٹے کی قیمت میں کمی ممکن ہوسکتی ہے۔
حافظ آباد میں بھی مہنگائی سے پریشان شہریوں کو ریلیف نہیں مل سکا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ 1100 روپے میں دستیاب سبسڈی والا آٹے کا تھیلا مارکیٹ میں نہیں مل رہا، جبکہ 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1400 روپے سے بڑھ کر 1600 روپے تک پہنچ گئی ہے۔