وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں گورننس کی بہتری کے لیے پالیسی گائیڈ لائنز مرتب کرنے کی غرض سے 10 رکنی کمیٹی قائم کردی، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سمیت اہم حکومتی رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے۔
کمیٹی میں وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طارق فضل چوہدری اور خالد مقبول صدیقی بھی شامل ہیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کا ایک ایک نمائندہ بھی کمیٹی کا حصہ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی خیبر پختونخوا میں گورننس کی بہتری کے لیے پالیسی گائیڈ لائنز فراہم کرے گی۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر 10 نئے آرمڈ پرسنل کیریئرز (اے پی سیز) صوبائی پولیس کے حوالے کر دیے، جبکہ وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں خیبر پختونخوا پولیس کی معاونت مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر آرمڈ پرسنل کیریئرز فوری طور پر منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی، جس پر وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق صوبائی پولیس کو فوری معاونت فراہم کی گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کو مضبوط بنانے کے لیے 10 اے پی سیز فراہم کیے گئے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور وفاقی حکومت خیبر پختونخوا پولیس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت خیبر پختونخوا پولیس کے ساتھ ہے۔