مالدار قیدیوں کو خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کے دعوے، اہلخانہ سے رابطے، وی آئی پی پروٹوکول اور اسپتال منتقلی کے عوض بھاری رقوم لینے کے الزامات سامنے آگئے۔
کراچی کی سینٹرل جیل میں قید مالدار کاروباری شخصیات کو واٹس ایپ کے ذریعے اہلخانہ، وکلا اور دوستوں سے بات کروانے کے عوض مبینہ طور پر 15 ہزار سے ڈھائی لاکھ روپے تک وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
جیل ذرائع کے مطابق، موبائل فون نیٹ ورک بند ہونے کے باعث قیدیوں کو واٹس ایپ کالز کے لیے جیل کا وائی فائی استعمال کرنا پڑتا ہے، جہاں مختلف نوعیت کی کالز کے لیے الگ الگ رقوم وصول کی جاتی ہیں۔
جیل ذرائع کا دعویٰ ہے کہ میمن برادری سے تعلق رکھنے والے ایک بلڈر کو بی کلاس کی سہولت دلوانے کے لیے 25 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ اس کے بعد اسی بلڈر کی کسی شخصیت سے صرف 3 منٹ کی واٹس ایپ کال کروانے کے لیے ڈھائی لاکھ روپے لینے کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عام حالات میں ایسی کال کے لیے کم از کم 15 ہزار روپے وصول کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
جیل میں مبینہ وی آئی پی پروٹوکول
جیل ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ رضوان میمن عرف رضوان گنجا سے منسوب ایک گروہ مالدار قیدیوں کو خصوصی سہولتیں دلوانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ دعووں کے مطابق، اس میں حوالہ ہنڈی، گٹکا اسمگلنگ اور کاروباری تنازعات کے مقدمات میں گرفتار بعض ملزمان کو سہولتیں فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، قیدیوں کو جیل کے اسپتال یا جناح اسپتال کے خصوصی وارڈ میں منتقل کروانے کے لیے بھی لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں۔
جیل انتظامیہ کا مؤقف
سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ عبدالکریم عباسی نے ان مبینہ سرگرمیوں سے لاعلمی ظاہر کی۔ ان کے مطابق، ایسی کارروائیوں سے بچنے کے لیے جیل کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کا پاس ورڈ ہر ہفتے تبدیل کیا جاتا ہے۔