میٹا کا نیا اے آئی ماڈل متعارف، اوپن اے آئی کو ٹکر دینے کی تیاری

میٹا کا نیا اے آئی ماڈل متعارف، اوپن اے آئی کو ٹکر دینے کی تیاری

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنے نئے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز میوز ونڈر  اور میوز ونڈر فل متعارف کرا دیے ہیں، جنہیں کمپنی کے پہلے فرنٹیئر اے آئی ماڈلز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ میٹا ایک بار پھر اوپن اے آئی اور انتھروپک جیسی کمپنیوں کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

میٹا کی سپر انٹیلیجنس لیب کے مطابق، پیر کو متعارف کرائے گئے یہ دونوں ماڈلز کمپنی کے سابقہ میوز سپارک ماڈلز سے زیادہ بڑے اور زیادہ صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے ماڈلز مختلف کارکردگی کے ٹیسٹس میں بہتر نتائج دیتے ہیں اور کوڈنگ سمیت ایسے پیچیدہ کام انجام دے سکتے ہیں جن میں اے آئی کو طویل وقت تک مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ کے مطابق، میٹا کی جانب سے کیے گئے ٹیسٹس میں نئے ماڈلز نے انتھروپک کے کلاوڈ فیبل  5.1 اور اوپن اے آئی کے جی پی ٹی6 اسٹرا کے مقابلے میں قابلِ ذکر کارکردگی دکھائی۔ تاہم، آزادانہ جائزوں میں مختلف ماڈلز کی کارکردگی کے نتائج یکساں نہیں ہیں۔میٹا کے مطابق، میوز ونڈرکو میٹا ماڈل اے پی آئی اورمیوز کوڈکے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ زیادہ طاقتور میوز ونڈر فل  فی الحالمیوز کلاوڈ  کے صارفین تک محدود ہے اور اسے اے پی آئی کے ذریعے دستیاب نہیں کیا گیا۔

دونوں ماڈلز کمپنی کےمیوز اے آئی میوز اےآئی ایجنٹ کو بھی طاقت فراہم کریں گے، جو صارفین کے لیے مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:الیکٹرک گاڑی اور ورلڈ ریکارڈ ! چین نے ڈرفٹنگ میں تاریخ رقم کر دی

قیمت کے حوالے سے میٹا نے میوز ونڈرکے لیے ہر 10 لاکھ ان پٹ ٹوکنز کی قیمت 4 ڈالر اور ہر 10 لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکنز کی قیمت 20 ڈالر مقرر کی ہے۔ دونوں ماڈلز ایک ملین ٹوکنز تک کا کانٹیکسٹ ونڈو سپورٹ کرتے ہیں اور ٹیکسٹ، تصاویر، ویڈیو اور آڈیو کو بطور اِن پٹ قبول کر سکتے ہیں۔

میٹا نے ان ماڈلز میں دو اہم خصوصیات پر بھی توجہ دی ہے۔ پہلی خصوصیت ایکٹو میموری ہے، جس کے ذریعے اے آئی صارف کی اہم معلومات کو وقت کے ساتھ یاد رکھنے اور دوبارہ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری خصوصیت ایکٹو فوکسہے، جس کا مقصد پیچیدہ کاموں میں رکاوٹ آنے کے باوجود کام جاری رکھنا ہے۔

اوپن اے آئی اور کلاڈ کے مقابلے میں کارکردگی

مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا موازنہ کرنے والے ادارے آرٹیفیشل اینالیسس کے انٹیلیجنس انڈیکس کے مطابق، کلاوڈ اوپس5.5 نے 58 اسکور حاصل کیے،میوز وںڈر فل کا اسکور 56 جبکہ میوز ونڈر کا اسکور 52 رہا۔ اسی انڈیکس میں کلاوڈ فیبل5.1 اور جی پی ٹی 6 اسٹرا کے اسکور تقریباً 53 بتائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت خطرہ بن سکتی ہے، بل گیٹس نے خبردار کردیا

میٹا کی اپنی جانب سے جاری کردہ ٹیسٹ رپورٹ میں میوز ونڈر فل نے طویل کوڈنگ اور قانونی نوعیت کے پیچیدہ کاموں میں بہتر نتائج دکھائے۔ کمپنی کے مطابق، بعض مخصوص ٹیسٹس میں اس ماڈل نے مقابل کمپنیوں کے ماڈلز سے زیادہ اسکور حاصل کیے۔

تاہم، ہر شعبے میں میٹا کے ماڈلز کو برتری حاصل نہیں ہوئی۔ کمپنی کے اپنے تقابلی اعداد و شمار کے مطابق،کلاوڈ اوپس 5.5 نے صحت سے متعلق بعض ٹیسٹس، کمپیوٹر استعمال کرنے اور کچھ کوڈنگ بینچ مارکس میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

میٹا کی اے آئی حکمت عملی میں نئی پیش رفت

نئے ماڈلز کی تربیت اوہائیو میں واقع میٹا کے پرومیتھیئس ڈیٹا سینٹر میں کی گئی۔ یہ اجرا کمپنی کے اے آئی شعبے کی تنظیم نو کے بعد فرنٹیئر ماڈلز کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ میٹا اب ایسے اے آئی نظام تیار کرنے پر توجہ دے رہی ہے جو صرف سوالات کے جواب دینے تک محدود نہ ہوں بلکہ صارفین کے لیے پیچیدہ اور طویل کام بھی انجام دے سکیں۔

نئے ماڈلز کی دستیابی اور کارکردگی سے متعلق نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ میٹا اے آئی کی عالمی دوڑ میں اپنی جگہ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، مختلف ماڈلز کی حقیقی افادیت کا اندازہ آزادانہ ٹیسٹس، عملی استعمال، لاگت اور صارفین کے تجربات سے مزید واضح ہوگا۔

editor

Related Articles