خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں سرکاری خزانے پر کھلےعام لوٹ مار! پی ٹی آئی سینیٹر کی اہلیہ و جونیئر ڈاکٹر کا گٹھ جوڑ ،کروڑوں کی کرپشن کا پردہ فاش

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں سرکاری خزانے پر کھلےعام لوٹ مار! پی ٹی آئی سینیٹر کی اہلیہ و جونیئر ڈاکٹر کا گٹھ جوڑ ،کروڑوں کی کرپشن کا پردہ فاش

خیبر ٹیچنگ ہسپتال (KTH) پشاور میں  پی ٹی آئی سینیٹر کی اہلیہ اور جونیئر پروفیسر ڈاکٹر کی انتظامی بے قاعدگیوں، خلافِ قانون بھرتیوں اور فنڈز میں مبینہ کروڑوں روپے کے گھپلوں کا پردہ فاش ہوگیا۔

خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا طبی ادارہ، خیبر ٹیچنگ ہسپتال (KTH) پشاور اس وقت بدترین انتظامی انارکی، اقربا پروری اور مبینہ کرپشن کا شکار ہو چکا ہے ،  طاقتور سیاسی لابیوں نے مریضوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر ہسپتال کو اپنی ذاتی جاگیر بنا رکھا ہے  ، ذرائع اور کے ٹی ایچ کے ملازمین کی جانب سے سامنے آنے والے حقائق کے مطابق خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں قانون، ضوابط اور میرٹ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔

  جونیئر ڈاکٹر کو بیک وقت 5 عُہدے مل گئے

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور بی او جی کے چیئرمین ڈاکٹر واجد نے 8 ماہ قبل ڈاکٹر سجاد داوڑ اور آئی ڈی ایف کے ڈاکٹروں کے غیر قانونی اقدامات کے باعث خرابی صحت کا بہانہ بنا کر استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد BOG ممبر ڈاکٹر روبینہ گیلانی (اہلیہ پی ٹی آئی سینیٹر نعمان) نے مبینہ طور پر خود ساختہ چیئرپرسن بن کر ڈاکٹر سجاد داوڑ کو قانون اور کیڈر کے برعکس بیک وقت 5 کلیدی انتظامی عہدوں پر فائز کر دیا۔

نیوروسرجری وارڈ کے جونیئر کلینیکل اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سجاد داوڑ کو بیک وقت پانچ اہم عہدے جن میں ہسپتال ڈائریکٹر (Acting Charge)  ایسوسی ایٹ ہسپتال ڈائریکٹر،  چیئرمین پرچیز کمیٹی، چیئرمین اپائنٹمنٹ (بھرتی) کمیٹی اور ممبر مینجمنٹ کمیٹی کا عہدہ شامل ہے، سے نواز دیا گیا ،  اس سیاسی چھتری تلے ڈاکٹر روبینہ کی جانب سے ڈاکٹر سجاد داوڑ کو نوازنے کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس نے ہسپتال کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں ملا دی۔

یہاں سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ  کیا ایک غیر متعلقہ اور جونیئر کلینیکل افسر کو ایک ہی وقت میں اتنے بڑے انتظامی عُہدے دیے جا سکتے ہیں اور کیا ایک ایکٹنگ چارج افسر کو کروڑوں روپے کی خریداریوں اور بھرتیوں کا قانونی اختیار حاصل ہے؟

ایک ہی فرد کے پاس تمام فیصلے کرنے اور اختیارات جمع ہونے سے مفادات کے تصادم اور اداروں کی نگرانی کے نظام کو بائی پاس کرنے کے خدشات موجود ہیں، جس سے بھرتیوں اور خریداریوں کی شفافیت پر بھی گہرے سوالات اٹھ رہے ہیں ، یہی نہیں ادارے کے باصلاحیت اور سینئر انتظامی افسران کو انکوائریوں کا ڈر دکھا کر، دھمکیاں دے کر زبردستی استعفے دینے پر مجبور کیا گیا تاکہ ان خالی ہونے والی اہم نشستوں پر اپنے چمچوں اور من پسند افراد کو بٹھایا جا سکے.

صحت کارڈ، فارمیسی اور من پسند خریداریوں میں مبینہ خرد برد   

یہی نہیں بلکہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں بورڈ ممبر ڈاکٹر روبینہ گیلانی اور ڈاکٹر سجاد داوڑ بغیر ٹینڈر اور اشتہار کے پسندیدہ سپلائر کی کوٹیشن پر صحت کارڈ اور ہسپتال کی فارمیسی کے لیے کروڑوں کی خریداری میں بھی ملوث رہے ہیں ۔

 قواعد سے بالاتر بھرتیاں 

صحت کارڈ پراجیکٹ کے لیے پہلے 20 من پسند افراد کو بغیر کسی اشتہار اور انٹرویو کے ڈیلی ویجز پر رکھا گیا اور پھر صرف دو ماہ کے قلیل عرصے میں انہیں غیر قانونی طور پر ریگولر بھی کر دیا گیا.

 ڈاکٹر روبینہ گیلانی کی مبینہ ایما پر ڈاکٹر سجاد داوڑ نے گزشتہ ماہ دھڑا دھڑ 120 کلاس فور ملازمین کی بھرتیاں بھی کر ڈالیں،  جب ایک جونیئر ڈاکٹر خود ایکٹنگ چارج پر بیٹھا ہو، تو وہ قانون کی کون سی کتاب کا احترام کرے گا؟ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران ڈاکٹر سجاد داوڑ کی طرف سے مبینہ طور پر ماہانہ تین لاکھ روپے تنخواہ اور پٹرول کی مد میں جو اضافی مراعات حاصل کی گئیں، وہ غریب عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی صریح لوٹ مار ہے ، اس حوالے سے خیبر ٹیچنگ پسپتال ملازمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہسپتال کے سینئر اور تجربہ کار انتظامی افسران کو انکوائریوں کا ڈر دکھا کر استعفوں پر مجبور کیا گیا تاکہ اہم عُہدوں پر من پسند افراد کو بٹھایا جا سکے۔

 حکام سے ملازمین کے بنیادی مطالبات

 خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے ملازمین نے گورنر خیبر پختونخوا اور مشیر صحت سے درج ذیل فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جن میں سیاسی بنیادوں پر مسلط کی گئی بورڈ ممبر ڈاکٹر روبینہ گیلانی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے ۔

غیر قانونی عُہدوں کا خاتمہ : ڈاکٹر سجاد داوڑ کو ہسپتال ڈائریکٹر اور دیگر چاروں انتظامی عہدوں سے ہٹا کر فوری ان کے اصل شعبے (نیوروسرجری وارڈ) میں مریضوں کے علاج کے لیے واپس بھیجا جائے۔

شفاف آڈٹ و نیب تحقیقات: صحت کارڈ، ہسپتال فارمیسی خریداریوں، ٹینڈرز اور ڈیلی ویجز و کلاس فور بھرتیوں کا آڈیٹر جنرل، اینٹی کرپشن اور نیب کے ذریعے آڈٹ و غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے۔

مزید پڑھیں:تبدیلی کا فریب مک گیا ! خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کا ڈرامہ ختم ، اپوزیشن جماعتوں کا اظہار اطمینان

 مراعات اور اضافی اخراجات کی واپسی: ڈاکٹر سجاد داوڑ کو بطور ڈائریکٹر دی جانے والی اضافی مراعات، گاڑی اور پیٹرول کی مد میں موصول کی گئی رقم کی بازیابی کی جائے۔

 روکی گئی انکوائریوں کا اجراء: اینٹی کرپشن میں پہلے سے زیرِ التواء انکوائری جو مبینہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ کے باعث روک دی گئی تھی، اسے دوبارہ شروع کیا جائے۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں پی ٹی آئی کے دور سے جاری یہ اندھیر نگری اور اقربا پروری اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ سیاسی سرپرستی میں کس طرح ایک مقدس علاج گاہ کو ذاتی مالِ غنیمت بنا دیا گیا ہے ،  ایک طرف غریب مریض بنیادی ادویات اور علاج کو ترستے ہیں، تو دوسری طرف ایک جونیئر ڈاکٹر کو قانون کا جنازہ نکال کر بیک وقت پانچ کلیدی عہدوں پر مسلط رکھا گیا ہے تاکہ کروڑوں کے فنڈز اور بھرتیوں کا کھیل بلا خوف و خطر جاری رہے۔

 اب وقت زبانی جمع خرچ یا کاغذی انکوائریوں کا نہیں، بلکہ نیب اور اینٹی کرپشن کو KTH کا رخ کر کے اس پورے گٹھ جوڑ کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور ہسپتال کو اس ‘سرکاری ڈاکے’ سے نجات دلانے کا ہے۔

editor

Related Articles