نادرا سے پاسپورٹ مراکز تک ڈیجیٹل ادائیگیاں، کیش لیس پاکستان منصوبے میں کیا پیش رفت ہوئی

نادرا سے پاسپورٹ مراکز تک ڈیجیٹل ادائیگیاں، کیش لیس پاکستان منصوبے میں کیا پیش رفت ہوئی

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک بھر میں اپنے سروس مراکز پر 99 فیصد ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام کے تحت منتقل کر دیا ہے، جس کا مقصد شہریوں کے لیے فیس کی ادائیگی آسان بنانا ہے۔

اس پیش رفت کا جائزہ 13 اکتوبر 2026 کو وزارت خزانہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران لیا گیا، جس کی صدارت وزیر مملکت برائے ریلوے و خزانہ بلال اظہر کیانی نے کی۔ اجلاس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں ہونے والی پیش رفت اور آئندہ مرحلے کے اہداف پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال میں اضافہ

اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے کاروباری مراکز کی تعداد چار گنا بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاسپورٹ مراکز پر بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔ بریفنگ کے مطابق، وفاقی حکومت کے مرکزی اور خود حسابات رکھنے والے اداروں میں تقریباً 75 فیصد ادائیگیاں اب ڈیجیٹل طریقے سے قبول کی جا رہی ہیں۔

30 ہزار نوجوانوں کو جدید ہنر سکھا کر بیرونِ ملک روزگار کی فراہمی کا فیصلہیہ بھی پڑھیں:

حکومت کے تین اہم اہداف

اجلاس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کی کارکردگی جانچنے کے لیے تین اہم اشاریوں کا جائزہ لیا گیا:

  1. ڈیجیٹل ادائیگیوں کی ایپس استعمال کرنے والے فعال اور منفرد صارفین کی تعداد۔

  2. سالانہ ڈیجیٹل لین دین کی مجموعی تعداد۔

  3. ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے کاروباری مراکز کی تعداد۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فعال ایپ صارفین، فعال کاروباری مراکز اور منفرد ڈیجیٹل صارفین کی تعریفوں پر نظرثانی کی جائے گی، تاکہ اعداد و شمار زیادہ درست ہوں اور ایک ہی صارف یا کاروبار کو بار بار شمار کرنے سے بچا جا سکے۔

کیش لیس پاکستان منصوبے کا مقصد کیا ہے؟

بلال اظہر کیانی نے نجی شعبے کے نمائندوں سے کہا کہ وہ ایسی ٹیکس پالیسی تبدیلیوں کے لیے تجاویز تیار کریں جو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت کو بریک لگ گئی، ستمبر میں بڑی کمی ،آٹو مارکیٹ ہل گئی

وزیر مملکت کے مطابق، کیش لیس پاکستان اقدام کا مقصد ادائیگیوں کو آسان بنانا، شفافیت بڑھانا اور معاشی سرگرمیوں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دائرہ کار کو بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ افراد کو مالیاتی سہولتوں تک رسائی دینے کے لیے متعلقہ اداروں، بینکوں، مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔

اجلاس میں وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، نادرا اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے نمائندوں کے علاوہ پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن، ایزی پیسہ، جاز کیش، بینک الفلاح، جے ایس بینک اور کرنداز پاکستان کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

editor

Related Articles