سہیل آفریدی کی کارکردگی صفر، قبائلی اضلاع کو لاوارث چھوڑ دیا گیا، ملک صلاح الدین آفریدی

سہیل آفریدی کی کارکردگی صفر، قبائلی اضلاع کو لاوارث چھوڑ دیا گیا، ملک صلاح الدین آفریدی

قبائلی رہنما ملک صلاح الدین آفریدی کوکی خیل نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی عوام نے سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے پر بہت سی امیدیں وابستہ کی تھیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کی کارکردگی مایوس کن ثابت ہوئی۔ ان کے بقول قبائلی اضلاع کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

ملک صلاح الدین آفریدی کوکی خیل نے کہا کہ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے پر قبائلی عوام خوش تھے اور انہیں توقع تھی کہ نئی قیادت ان کے دیرینہ مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے گی۔ تاہم ان کے مطابق عوام کی یہ توقعات پوری نہیں ہوئیں اور صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کے مسائل حل کرنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکی۔

انہوں نے کہا کہ ضلع کرم، وزیرستان، اورکزئی، باجوڑ اور مہمند سمیت مختلف قبائلی اضلاع کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، لیکن ان علاقوں کی مشکلات کے حل کے لیے حکومت کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات دکھائی نہیں دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے ضلع خیبر کے مسائل پر بھی وہ توجہ نہیں دی جس کی قبائلی عوام توقع کر رہے تھے۔

ملک صلاح الدین آفریدی کوکی خیل نے کہا کہ قبائلی عوام کو امن و امان، روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی سہولتوں اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوام نے حکومت سے امیدیں وابستہ کی تھیں کہ ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، لیکن ان کے مطابق اب تک کی کارکردگی ان توقعات پر پوری نہیں اتری۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی عہدیدار کے خلاف سرکاری وسائل میں بے ضابطگیوں یا لوٹ مار کے شواہد موجود ہیں تو شفاف تحقیقات کے ذریعے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی عہدے عوام کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں اور حکمرانوں کو اپنی کارکردگی کا جواب دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کا اقدام، 173 جوان پاک فوج کا حصہ بن گئے

ملک صلاح الدین آفریدی کوکی خیل نے زور دیا کہ قبائلی اضلاع کو نظرانداز کرنے کے بجائے وہاں کے مسائل کے حل کے لیے واضح حکمت عملی اختیار کی جائے، ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دی جائے اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ان کے مطابق قبائلی عوام کو محض وعدوں کے بجائے عملی اقدامات اور اپنی زندگیوں میں واضح بہتری درکار ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles