پشاور کے خیبر ٹیچنگ اسپتال میں شوکت خانم کے طبی سافٹ ویئر کے ذریعے مبینہ مالی خورد برد کا انکشاف ہوا ہے، جہاں شام کی اوپی ڈی میں 135,000 سے زیادہ ٹیسٹس کا ریکارڈ غائب اور ماہانہ 70 لاکھ روپے کا نقصان سامنے آیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے اہم تدریسی اسپتال خیبر ٹیچنگ اسپتال میں شوکت خانم کینسر اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے ساتھ منسلک آئی ٹی سافٹ ویئر کے استعمال میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا پردہ چاک ہوا ہے۔
یہ سافٹ ویئر صوبے کے دیگر تدریسی اسپتالوں بشمول لیڈی ریڈنگ اسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سمیت تمام ایم ٹی آئی ایکٹ 2015 کے تحت چلنے والے اسپتالوں میں نصب کیا گیا ہے۔
اس نظام کا تمام کنٹرول متعلقہ آئی ٹی سیکشن کے پاس ہے اور اسپتال کا مقامی عملہ اس ڈیٹا تک رسائی یا اس میں تبدیلی کا مجاز نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شرمناک کرپشن سکینڈل ،مینا خان اور بابر سلیم نے بھتہ نہ ملنے پرمیگا پراجیکٹ ہی ختم کرا دیا
معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب اسپتال کی پتھالوجی لیبارٹری کی آمدن میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی۔ ایک پروفیسر نے جب ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی تو یہ ہولناک حقیقت سامنے آئی کہ لیبارٹری میں ہونے والے جملہ ٹیسٹس کے مقابلے میں اندراج بہت کم کیا جا رہا ہے۔
ان شکایات پر ادارہ جاتی پریکٹس کے انچارج کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق، لیبارٹری میں 930,000 ٹیسٹس کے مقابلے میں صرف 794,000 انوائسز ریکارڈ پر موجود پائیں گئیں۔
دونوں اعدادوشمار کے درمیان تقریباً 135,000 سے زیادہ ٹیسٹس کا فرق سامنے آیا، جس کی وجہ سے ماہانہ 70 لاکھ روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق، جب انکوائری کے دوران شوکت خانم اسپتال سے اصل ریکارڈ طلب کیا گیا تو وہاں بھی اس 135,000 ٹیسٹس کا کوئی نام و نشان یا اندراج موجود نہیں تھا۔
انکوائری بیٹھتے ہی لیبارٹری کی آمدن میں 130 فیصد کا غیر معمولی اضافہ
اس اسکینڈل کا سب سے سنسنی خیز اور الجھا دینے والا پہلو یہ ہے کہ انکوائری کمیٹی کے بیٹھتے ہی لیبارٹری کی آمدن میں 130 فیصد سے زیادہ کا اچانک اور غیر معمولی اضافہ رپورٹ ہوا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس اتنے بڑے اضافے کی اصل وجوہات کیا تھیں؟ کیا بلنگ کے طریق کار میں کوئی اصلاح کی گئی، وصولیوں کی نگرانی کو سخت کیا گیا یا پہلے سے موجود ریکارڈ کی خامیوں کو چھپایا گیا؟ ۔
انکوائری رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ روزانہ تقریباً 100 مریضوں کی کیٹیگری تبدیل کی جاتی تھی۔ یعنی بعض افراد کے ٹیسٹس کم قیمت میں شمار کرنے کے لیے ان کا ڈیٹا صبح کی اوپی ڈی میں منتقل کیا جاتا تھا اور مبینہ طور پر پس پردہ اضافی فیس وصول کی جاتی تھی۔
اس عمل کی منظوری کون دیتا تھا اور اس سے بلوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے تھے، اس کا کوئی شافی جواب تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔
ریکارڈ کی فراہمی پر پابندی اور انتظامی سطح پر معاملے کو دبانے کی کوشش
جب انکوائری کمیٹی نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور مزید قانونی چارہ جوئی کی سفارش کی تو اسپتال کے ڈائریکٹر نے ایک باضابطہ خط کے ذریعے شوکت خانم اسپتال کے متعلقہ آئی ٹی سیکشن کو مزید ریکارڈ فراہم کرنے سے سختی سے منع کر دیا، جس سے یہ حساس معاملہ دبا دیا گیا۔
اس حوالے سے جب خیبر ٹیچنگ اسپتال کی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ایک اعلیٰ افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سافٹ ویئر بالکل مفت فراہم کیا گیا ہے اور اس کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتال کا ریکارڈ اسپتال ڈائریکٹر کا صوابدیدی اختیار ہے، یہ محض ایک آئی ٹی کی معمولی غلطی تھی اور اس میں کسی قسم کی مزید تحقیقات یا انکوائری کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
دوسری جانب انکوائری افسران میں سے ایک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ انکوائری تاحال ادھوری ہے۔ اگر صرف شام کی اوپی ڈی میں اتنی بڑی سطح پر مالی خوردبرد اور گڑبڑ ہو رہی ہے، تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صبح کی اوپی ڈی میں کتنے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا رہا ہوگا۔
مریضوں کا ڈیٹا غیر متعلقہ افراد یا فریقین کو فراہم کرنا طبی اخلاقیات کے بھی صریحاً خلاف ہے۔
جدید بار کوڈنگ سسٹم کی عدم موجودگی اور آئی ٹی کنٹرول پر سنگین سوالات
جدید طبی دنیا میں لیبارٹری کے نظام کو شفاف اور بے خطا بنانے کے لیے بار کوڈنگ سسٹم کو بنیادی ستون مانا جاتا ہے، جس کی بدولت ہر ٹیسٹ کی براہِ راست وابستگی مریض، اس کی بلنگ اور حتمی رپورٹ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں:شرمناک کرپشن سکینڈل ،مینا خان اور بابر سلیم نے بھتہ نہ ملنے پرمیگا پراجیکٹ ہی ختم کرا دیا


