شرمناک کرپشن سکینڈل ،مینا خان اور بابر سلیم نے بھتہ نہ ملنے پرمیگا پراجیکٹ ہی ختم کرا دیا

خیبرپختونخوا میں ’تبدیلی‘ اور ’شفافیت‘ کے کھوکھلے دعوے کرنے والی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا اصلی اور مکروہ چہرہ ایک بار پھر پوری قوم کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔
 صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے 4 کھرب 72 ارب روپے کے عظیم الشان رہائشی منصوبے کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی بے لگام کمیشن خوری، رشوت اور بھتہ خوری کی بھیانک بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔
 15 ہزار کنال اراضی پر محیط اس میگا ہاؤسنگ پراجیکٹ کو محض اس لیے کچل کر رول بیک کر دیا گیا کیونکہ پی ٹی آئی کے بااثر عہدیداروں کو ان کی من پسند اربوں روپے کی “دیہاڑی” اور کک بیکس نہیں مل سکے۔

 مینا خان کا 12 ارب اور بابر سلیم   کا  اڑھائی  ارب  بھتہ کا مطالبہ 
موصولہ سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق، پی ٹی آئی کے غیر فعال صوبائی وزیر مینا خان نے اس اربوں کے منصوبے کی منظوری اور فائل آگے بڑھانے کے عوض 12 ارب روپے کے خطیر کمیشن کا مطالبہ کیا
  دوسری جانب سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پراجیکٹ کی منظوری کے بدلے  اڑھائی  ارب روپے کا بھتہ طلب کیا۔
 دونوں رہنماؤں نے عوامی مفاد کو بلائے طاق رکھتے ہوئے منصوبے کو صرف اپنی تجوریاں بھرنے کا ذریعہ بنا لیا۔

اراضی منتقلی کے باوجود بھوک نہ مٹی
حقائق بتاتے ہیں کہ منصوبے کے آغاز کے لیے اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام 477 کنال قیمتی اراضی باقاعدہ طور پر منتقل بھی کی جا چکی تھی اور تمام بنیادی کاغذی کارروائیاں مکمل ہو چکی تھیں۔ 
 جیسے ہی پی ٹی آئی کے ان وزراء اور بااثر شخصیات کو یہ اندازہ ہوا کہ ان کی اژدہا نما ہوس کے مطابق اربوں روپے کا کمیشن ان کی جیبوں میں نہیں جا رہا  تو انہوں نے بے حسی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے کروڑوں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے شروع کیا گیا یہ بڑا پراجیکٹ ہی یکسر ڈراپ (کنسل) کر دیا۔

شفافیت کے ڈھونگ کا ڈراپ سین
اس شرمناک واقعے نے پی ٹی آئی کی نام نہاد ’ایمانداری‘ اور ’اصلاحات‘ کا پول کھول کر رکھ دیا ہے ۔ خیبرپختونخوا کا عام شہری چھت اور بنیادی سہولیات کو ترستے ہوئے شدید مالی مشکلات کا شکار ہے، تو دوسری طرف تحریکِ انصاف کے رہنما عوام کا خون چوس کر اپنے سیاسی و ذاتی فائدے حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔
 عوامی فلاح کے میگا پراجیکٹس کو محض اس لیے کھڈے لائن لگا دینا کہ ان سے بھتہ وصول نہیں ہو سکا  پی ٹی آئی حکومت کے بدترین فساد، بدعنوانی اور لوٹ مار کے کلچر کا واضح ثبوت ہے۔
کرپشن اور کک بیکس کی اس گھناؤنی داستان نے ثابت کر دیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کی ترجیح عوام کی ترقی نہیں بلکہ صرف اور صرف اپنے رہنماؤں کی جیبیں بھرنا  تھا ۔
 صوبے کے عوامی و سیاسی حلقوں نے اس اربوں روپے کے سکینڈل پر مینا خان اور بابر سلیم کے خلاف فوری نیب اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

editor

Related Articles