قومی اسمبلی نے صدر مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کرتے ہوئے متعلقہ قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی۔ اجلاس میں ایمرجنسی کے آئینی جواز، صوبے میں دہشت گردی کی صورت حال، وفاق اور صوبائی حکومت کے تعلقات اور سیاسی مذاکرات پر تفصیلی بحث ہوئی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک پیش کی گئی، جسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بعد ازاں طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ آئینی تقاضے کے تحت صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان دس روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری کے لیے پیش کرنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، اندرونی خلفشار، سرحد پار دراندازی اور صوبائی حکومت کے اقدامات قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے تھے۔ کابینہ نے اس معاملے پر تفصیلی غور و خوض کے بعد ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق 2026 میں دہشت گردی کے 3 ہزار 787 واقعات پیش آئے، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھی دہشت گردی کے واقعات کی تعداد 3 ہزار 700 سے تجاوز کر گئی۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور پولیس نے قربانیاں دے کر دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کی تھیں، تاہم بعد میں حالات دوبارہ خراب ہونا شروع ہوگئے۔
وزیر قانون نے سیاسی مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دی اور دو روز تک بات چیت جاری رہی۔ ان کے مطابق مذاکرات میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کے بجائے عمران خان کو جیل میں سہولیات فراہم کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، حالانکہ جیل کے معاملات متعلقہ قواعد کے تحت طے ہوتے ہیں]انہوں نے ماضی کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک موقع پر ملک بھر میں بیک وقت انتخابات کرانے پر اتفاق ہوگیا تھا، لیکن بعد میں مذاکراتی عمل آگے نہ بڑھ سکا۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے ایمرجنسی کے معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ وفاق ہے اور ملک میں امن قائم کرنے کے دعوے کرنے والوں کو ماضی کی پالیسیوں کا بھی جواب دینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سابق فوجی ادوار میں ملک میں دہشت گردی کے مسائل نے شدت اختیار کی اور قبائلی علاقوں میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے وزیرستان میں معدنی وسائل، شہریوں کی ہلاکتوں اور فاٹا میں سماجی شخصیات کے قتل کے معاملات بھی اٹھائے۔
محمود خان اچکزئی نے حکومت کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سیاسی اختلافات کے حل کے لیے بات چیت پر زور دیا۔ انہوں نے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ سیاسی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایمرجنسی کے نفاذ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو فیصلے کی مخالفت کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی صورت حال کی ذمہ داری بھی متعلقہ قیادت کو قبول کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کے سامنے ایمرجنسی کے نفاذ کی سمری آنے کے بعد اس آئینی اختیار کو استعمال کرنے سے پہلے مذاکرات کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق حکومت نے ہر ممکن کوشش کی کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی نوبت نہ آئے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ صدر مملکت کا آئینی اختیار ہے اور وہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے حق میں ووٹ دیں گے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں موجودہ صورت حال کا ذمہ دار وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو قرار دیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے حکومت اور اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ دوبارہ مذاکرات شروع کریں اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کا نفاذ مجبوری میں کیا گیا ہے اور یہ اقدام ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کا قیام کسی ایک جماعت کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور درمیانہ راستہ نکالنے کے لیے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا ضروری ہے۔