دنیا کے معروف اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے تقریباً1 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ 2022 کے بعد کمپنی میں ملازمتوں میں کمی کا سب سے بڑا اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے بڑی تعداد میں ملازمین متاثر ہوں گے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، نیٹ فلکس کے شریک چیف ایگزیکٹو افسران گریگ پیٹرز اور ٹیڈ سارینڈوس نے ایک اندرونی مراسلے کے ذریعے ملازمین کو اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، ملازمتوں میں کمی کا زیادہ تر اثر کمپنی کے پروڈکٹ، ٹیکنالوجی، قانونی امور اور انسانی وسائل کے شعبوں پر پڑے گا۔
کمپنی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نیٹ فلکس کا کاروبار مستحکم ہے اور ترقی بھی جاری ہے، لیکن دنیا بھر میں تفریحی مواد فراہم کرنے کے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے وسائل اور افرادی قوت کو کاروباری ترجیحات کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہے۔
حصص کی قیمت میں کمی اور مستقبل کی ترقی پر سوالات
نیٹ فلکس کے مطابق کمپنی رواں سال کے لیے اپنی مالی پیش گوئی کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے، تاہم سرمایہ کاروں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ کمپنی مستقبل میں اپنی ترقی کی رفتار کیسے برقرار رکھے گی۔
میڈیارپورٹ کے مطابق، نیٹ فلکس کے حصص رواں سال اب تک تقریباً 25 فیصد گر چکے تھے، جبکہ ملازمتوں میں کمی کی خبر سامنے آنے کے بعد بدھ کے روز ان کی قیمت میں تقریباً 0.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال کے اختتام تک نیٹ فلکس میں تقریباً 16 ہزار ملازمین کام کر رہے تھے۔
نیٹ فلکس کو روایتی میڈیا کمپنیوں کے ساتھ یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
صارفین اپنا وقت کس پلیٹ فارم پر زیادہ گزارتے ہیں، یہ معاملہ سرمایہ کاروں کے لیے اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ یوٹیوب اور ٹک ٹاک مختصر ویڈیوز اور مختلف نوعیت کے مواد کے ذریعے صارفین کی توجہ حاصل کرتے ہیں، جبکہ نیٹ فلکس فلموں، ڈراموں اور دیگر طویل دورانیے کے پروگراموں پر توجہ دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، سبسکرپشن سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار بھی نیٹ فلکس کی مستقبل کی ترقی کے لیے ایک اہم چیلنج ہوسکتا ہے۔
2022 کے بعد سب سے بڑی چھانٹی
نیٹ فلکس نے اس سے قبل 2022 میں بھی ملازمتوں میں کمی کی تھی۔ اس وقت صارفین کی تعداد میں ایک دہائی سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ کمی ریکارڈ ہونے کے بعد کمپنی نے دو مراحل میں تقریباً 450 ملازمین کو فارغ کیا تھا۔