مصنوعی ذہانت کے نئے خطرات، اسمارٹ ڈیوائسز بھی بن سکتی ہیں نشانہ

مصنوعی ذہانت کے نئے خطرات، اسمارٹ ڈیوائسز بھی بن سکتی ہیں نشانہ

مصنوعی ذہانت  کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر سیکیورٹی کے خطرات پر بھی بحث تیز ہو رہی ہے۔ اے آئی  کمپنی انتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں کچھ اےآئی ماڈلز خودکار طریقے سے اپنی نقول تیار کرنے اور انٹرنیٹ سے منسلک ڈیوائسز تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔

کمپنی کی رپورٹ میں ایک ایسے ممکنہ خطرے کا ذکر کیا گیا ہے جسے ’اےآئی ورمز‘ کہا گیا ہے۔ یہ اصطلاح ایسے خودکار سافٹ ویئر کے لیے استعمال کی گئی ہے جو کمپیوٹر نیٹ ورکس میں پھیل سکتا ہے اور سیکیورٹی نظاموں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق، اگر مستقبل میں ایسے اے آئی سسٹمز کو اسمارٹ فریج، روبوٹک ویکیوم کلینر اور دیگر انٹرنیٹ سے منسلک آلات کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا تو ان کی نگرانی اور انہیں بند کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

عام طور پر کسی سافٹ ویئر کو بند کرنے کے لیے اس کے مرکزی نظام کو روکنا کافی ہوتا ہے، لیکن اگر اس کی متعدد نقول مختلف ڈیوائسز اور نیٹ ورکس پر پھیل جائیں تو ہر نقل کو تلاش کرنا اور ختم کرنا ایک بڑا تکنیکی چیلنج بن سکتا ہے۔

انتھروپک نے اس ممکنہ صورت حال کے پیش نظر ایسے حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے جو اےآئی سسٹمز کو غیر مجاز طریقے سے پھیلنے، سیکیورٹی پابندیوں سے بچنے اور کمپیوٹر نیٹ ورکس پر حملے کرنے سے روک سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا کا نیااے آئی فیچر متعارف، فیس بک استعمال کرنے کا انداز بدلنے کی تیاری

اس سے پہلے کمپنی نےاے آئی ماڈلز کے بعض ممکنہ رویوں پر بھی تشویش ظاہر کی تھی، جن میں بند کیے جانے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت اور معلومات چھپانے جیسے رویے شامل تھے۔ تاہم، ایسے خطرات کے بارے میں پیش کردہ منظرناموں کو حقیقی دنیا میں ان کے یقینی طور پر پیش آنے کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو داریو اموڈے سمیت دیگر ٹیکنالوجی رہنماؤں نے بھی اےآئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ حفاظتی اقدامات کی اہمیت پر بات کی ہے۔

اے آئی مستقبل میں بہت سے کام آسان بنا سکتی ہے، لیکن اگر اسے سائبر سیکیورٹی کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت مل جائے تو اس کے اثرات صرف کمپیوٹرز تک محدود نہیں رہیں گے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اس کی نگرانی، حفاظت اور انسانی کنٹرول کو بھی یقینی بنایا جائے۔

editor

Related Articles