عالمی بینک نے پاکستان میں جاری کروڑوں ڈالرز کے معاشی و ترقیاتی پروگراموں کو ’اعتدال پسندانہ اطمینان بخش‘ قرار دیتے ہوئے گورننس اور ٹیکس اصلاحات کے راستے میں اہم رکاوٹوں اور خطرات سے خبردار کیا ہے۔
واشنگٹن میں قائم عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کے تقریباً 670 ملین ڈالرز مالیت کے 2 بڑے قرض پروگراموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے۔
ادارے نے 700 ملین ڈالر کے مالیاتی پیکج ’پاکستان پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈویلپمنٹ‘ (پی آر آئی ڈی ایم پی اے) کی مجموعی عملداری کو ’اعتدال پسندانہ اطمینان بخش‘ قرار دیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی اس قرض پر ’قابلِ لحاظ خطرات‘ کا لیبل بھی لگایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:الیکٹرک گاڑی اور ورلڈ ریکارڈ ! چین نے ڈرفٹنگ میں تاریخ رقم کر دی
یہ پروگرام 19 جون 2025 کو مؤثر ہوا تھا جس کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کو فروغ دینا، عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور اگلے پانچ برسوں میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب بڑھا کر 15 فیصد تک لے جانا ہے۔
ٹیکس کا طویل المدتی ہدف اور خطرات کی نوعیت
اس پروگرام کے تحت پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب جون 2025 کے 12.3 فیصد سے بڑھا کر جون 2030 تک 15 فیصد کرنا ہے۔
عالمی بینک کی اس ریٹنگ کی بنیادی وجوہات میں بلند سیاسی اور انتظامی خطرات، معاشی پالیسیوں، ادارہ جاتی صلاحیتوں، فنڈز کے شفاف استعمال اور ماحولیاتی و سماجی معیارات میں موجود چیلنجز شامل ہیں۔
اگرچہ 14 مئی کو اس آپریشن کے مؤثر ہونے کے بعد 29 جون کو 164.52 ملین ڈالر کی پیشگی رقم بھی جاری کی جا چکی ہے اور زیادہ تر اہداف پر تسلی بخش پیشرفت جاری ہے، تاہم اس کے باوجود ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں سیاسی غیر یقینی کی گہری چھاپ موجود ہے۔
ماضی میں بھی اصلاحاتی وعدوں اور ان کے زمینی نفاذ کے درمیان خلیج ہمیشہ سے معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی عزم اپنی جگہ لیکن ریاستی اداروں کی عملداری میں سنجیدہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔
ادارہ شماریات میں خالی عہدے اور انتظامی خلا
عالمی بینک نے حکومت کو پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی گورننگ کونسل کی تشکیل اور چیف سٹیٹسٹشین کی تقرری میں ہونے والی تاخیر سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے، جو پروگرام کی شرائط کی سنگین خلاف ورزی شمار ہو رہی ہے۔
ضوابط کے مطابق پروگرام کے نفاذ کے دوران چیف سٹیٹسٹشین کا عہدہ خالی نہیں رہ سکتا اور نہ ہی کسی موجودہ سرکاری ملازم کو اس عہدے کا اضافی چارج باضابطہ طور پر سونپا جا سکتا ہے۔
چونکہ یہ اہم ترین عہدہ 24 ستمبر 2026 سے خالی پڑا ہے، اس لیے ادارہ جاتی شفافیت اور ڈیٹا کی درستگی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کی شفافیت کے بغیر معاشی پالیسی سازی ہمیشہ اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہوتی ہے، اور اس نوعیت کی انتظامی تاخیر بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ اعتماد کو شدید مجروح کرتی ہے۔
کنیکٹڈ پنجاب پروگرام اور ڈیجیٹل ترقی کے امکانات
دوسری جانب عالمی بینک نے 70 ملین ڈالر مالیت کے ’کنیکٹڈ پنجاب پروگرام‘ کو بھی معتدال پسند سے لے کر قابلِ لحاظ خطرات کیٹیگری میں رکھا ہے، جو موجودہ مالی سال کے آغاز سے شروع ہو کر جون 2031 تک جاری رہے گا۔
مزید پڑھیں:ملکی معیشت سے متعلق بڑی خوشخبری ،پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا نیا ریکارڈ بن گیا
پنجاب حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر اس پروگرام کو مضبوط سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔ یہ پروگرام بنیادی طور پر تین اہم ستونوں پر کھڑا ہے جن میں براڈ بینڈ رسائی و کنیکٹیویٹی، ڈیجیٹل سروس ڈلیوری اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیاری اور کیش لیس لین دین کا فروغ شامل ہیں۔
پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے اس ضمن میں صوبائی حکومت کی باضابطہ منظوری بھی حاصل کر لی ہے، جو ادارہ جاتی تیاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ڈیجیٹل گورننس فریم ورک، مصنوعی ذہانت سے متعلق نگران کمیٹی، ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کی حکمت عملی اور سائبر سیکیورٹی کے منصوبے اس ذمہ دارانہ ڈیجیٹل تبدیلی کی مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ پی آر آئی ڈی ایم پی اے کو عالمی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 19 دسمبر 2025 کو منظور کیا تھا، جس کا مقصد وفاقی اور صوبائی سطح پر گھریلو آمدنی کو بڑھانا، عوامی اخراجات کے معیار کو بہتر بنانا اور ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنا تھا۔
اس وقت حکومتی عہدیدار اور عالمی بینک کے نمائندے تیاری کے مراحل کو تیز کرنے اور تاخیر کے اثرات کو کم کرنے کے لیے قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں تاکہ اصلاحاتی عمل کو پٹری سے اترنے نہ دیا جائے۔
