میٹنگ چھوڑ کرمشیر اطلاعات ثمر بلور فوری اسپتال پہنچ گئیں، زخمی طالب علموں کی عیادت کی، انتظامیہ کو خصوصی ہدایات

میٹنگ چھوڑ کرمشیر اطلاعات ثمر بلور فوری اسپتال پہنچ گئیں، زخمی طالب علموں کی عیادت کی، انتظامیہ کو خصوصی ہدایات

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوس ناک واقعے کے بعد انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا، جبکہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رہا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے تلے دبے بچوں اور دیگر افراد کو نکالنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی سہولتیں فراہم کی گئیں۔

حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور ملبے میں پھنسے افراد تک پہنچنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے تلاش کا عمل جاری رکھا، جبکہ متعلقہ ادارے بھی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس پاکستان کہاں گئے؟ جسٹس منیب اختر قائم مقام چیف جسٹس بن گئے

اسپتال انتظامیہ کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر متاثرین کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ زخمیوں کی حالت اور علاج سے متعلق تفصیلات کے لیے طبی عملے کی نگرانی میں ضروری اقدامات کیے گئے۔ صوبائی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمی بچوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اسکول مالک کی گرفتاری کے بعد واقعے کی وجوہات اور عمارت کی تعمیر و حفاظت سے متعلق ذمہ داریوں کا تعین اہم مرحلہ ہوگا۔ تحقیقات میں یہ جانچنا ضروری ہے کہ اسکول کی عمارت تعمیراتی معیار اور حفاظتی تقاضوں کے مطابق تھی یا نہیں، اور آیا متعلقہ اداروں کی جانب سے اس کا معائنہ کیا گیا تھا۔

اس واقعے نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت اور بچوں کے لیے محفوظ ماحول کی ضرورت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔ انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ امدادی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے ساتھ واقعے کی شفاف تحقیقات بھی یقینی بنائے، تاکہ غفلت یا خلاف ورزی سامنے آنے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو سکے۔

ریسکیو آپریشن کی تکمیل، تمام متاثرین کی تلاش اور زخمیوں کو طبی سہولتوں کی فراہمی اس وقت اولین ترجیحات ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles