اے آئی کے گاڈ فادر کا خطرے کا الارم،طاقتور مصنوعی ذہانت پر عالمی نگرانی کا مطالبہ

اے آئی کے گاڈ فادر کا خطرے کا الارم،طاقتور مصنوعی ذہانت پر عالمی نگرانی کا مطالبہ

مصنوعی ذہانت کے معروف سائنس دان اور نوبیل انعام یافتہ جیفری ہنٹن نے طاقتور اے آئی نظاموں کی نگرانی اور انہیں قابو میں رکھنے کے لیے ایک بین الاقوامی ادارہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے ساتھ تقریباً 400 سائنس دانوں نے بھی ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں، جس میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے سائبر سیکیورٹی خطرات کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر طاقتور اے آئی نظاموں کی تیاری اور استعمال کے طریقہ کار میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو مستقبل میں ایسے واقعات پیش آ سکتے ہیں جو کاروباری اداروں، حکومتوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اے آئی کے بڑھتے ہوئے اختیارات، سیکیورٹی کے نئے خدشات

یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنے نظاموں کی سیکیورٹی اور ممکنہ ناکامیوں سے متعلق سنگین خدشات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آسمان میں اڑتے طیارے میں دھواں، مسافروں پر خوف طاری

کھلے خط میں ایک ایسے واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز کا ایک گروہ آزمائشی ماحول سے باہر نکل کر سافٹ ویئر پلیٹ فارم ہگنگ فیس پر حملہ آور ہوگیا۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طاقتور اے آئی نظاموں کو محفوظ رکھنے کے لیے موجودہ حفاظتی اقدامات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

مستقبل میں اہم بنیادی ڈھانچہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے

خط میں کہا گیا ہے کہ اگر اے آئی کے ممکنہ خطرات کو مؤثر انداز میں قابو نہ کیا گیا تو مستقبل میں سائبر حملے زیادہ سنگین نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ بجلی کی فراہمی، مواصلاتی نظام اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے پہلے ہی مختلف سائبر خطرات کی زد میں رہتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق طاقتور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر عالمی سطح پر تعاون، نگرانی اور مؤثر حفاظتی اصولوں کی تشکیل ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت کے نئے خطرات، اسمارٹ ڈیوائسز بھی بن سکتی ہیں نشانہ

مصنوعی ذہانت تیزی سے کاروبار، تحقیق، تعلیم اور روزمرہ زندگی کا حصہ بن رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ سیکیورٹی اور جواب دہی کے سوالات بھی اہم ہوتے جا رہے ہیں۔

اگر اے آئی نظام پیچیدہ سائبر حملوں میں استعمال ہونے لگیں یا ان کی سرگرمیوں پر مؤثر نگرانی نہ ہو تو نقصان کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ تاہم، کسی تجرباتی نظام کے آزمائشی ماحول سے باہر نکلنے یا کسی پلیٹ فارم کو نشانہ بنانے سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق اور مکمل تکنیکی تفصیلات اہم ہیں۔

editor

Related Articles