ڈپٹی کمشنر پشاور کے مطابق یہ انکوائری کمیٹی اس بنیادی نقطے کا تعین کرے گی کہ اسکول کی عمارت کی چھت کن وجوہات کی بنا پر اچانک منہدم ہوئی۔
تحقیقاتی عمل کے دوران عمارت کے بنیادی تعمیراتی معیار، چھت کی پائیداری اور مضبوطی، مرمتی کام کی صورت حال اور متعلقہ حفاظتی ضوابط کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس بات کی کھوج لگانا بھی کمیٹی کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہوگا کہ کیا عمارت کے اندر پہلے سے کسی قسم کا کوئی ساختی نقص موجود تھا یا نہیں۔
اگر عمارت میں ایسی کوئی خرابی پہلے سے موجود تھی تو اس کے تدارک کے لیے متعلقہ سرکاری حکام یا اسکول انتظامیہ نے وقت پر کیا عملی اقدامات کیے تھے۔
تاہم ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا عمل مکمل ہونے سے پہلے کسی ایک بظاہر وجہ یا کسی متعلقہ فرد کی غفلت کو اس المناک حادثے کا حتمی سبب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
آئینی و انتظامی نفاذ
تعلیمی اداروں میں ایسے دلخراش حادثات کے بعد تحقیقاتی کمیٹیوں کا قیام انتظامی کارروائی کا روایتی طریقہ کار رہا ہے، تاہم اصل چیلنج ان تحقیقاتی رپورٹس کی سفارشات پر روح کے مطابق عمل درآمد کروانا ہوتا ہے۔
اکثر اوقات عمارتوں کے تعمیراتی معیار کے ناقص ہونے اور حفاظتی آڈٹ کے فقدان کو کاغذی کارروائیوں کی نذر کر دیا جاتا ہے، جس سے آئندہ کے لیے خطرات برقرار رہتے ہیں۔
ایک شفاف اور جامع انکوائری نہ صرف اس مخصوص حادثے کے ذمہ داران کا تعین کرے گی بلکہ اس سے پورے شہر کی تعلیمی عمارتوں کے حفاظتی جائزے کا ایک منظم راستہ بھی ہموار ہوگا۔
اگر ساختی خامیوں کے باوجود غفلت برتی گئی ہے تو سخت قانونی کارروائی ہی مستقبل میں معصوم جانوں کو محفوظ بنانے کا ضامن بن سکتی ہے۔
