پشاور اسکول سانحہ، سیکریٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم کا سخت نوٹس، پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی سے فوری رپورٹ طلب

پشاور اسکول سانحہ، سیکریٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم کا سخت نوٹس، پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی سے فوری رپورٹ طلب

خیبرپختونخوا کے سیکریٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم نے دیر کالونی میں ‘الخیر اسکول’ کی چھت گرنے کے المناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کل تک رپورٹ طلب کر لی ہے۔

خیبرپختونخوا کے سیکریٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم نے دیر کالونی میں واقع ‘الخیر اسکول’ کی چھت زمین بوس ہونے کے دلخراش واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے۔

انہوں نے صوبے کے نجی تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ اور دیکھ بھال کے ذمہ دار ادارے ‘پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی’ کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس واقعے کی تمام تر تفصیلات اکٹھی کر کے کل تک حتمی اور جامع رپورٹ لازمی جمع کرائیں۔

 

سیکریٹری تعلیم نے اس المناک حادثے میں اپنی جانیں گنوانے والے معصوم بچوں اور اساتذہ کے سوگوار اہل خانہ سے دلی تعزیت کی اور غمزدہ خاندانوں کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کو دہرایا۔


رپورٹ کا دائرہ کار اور جانچ کے بنیادی نکات

اس انکوائری اور طلب کی گئی رپورٹ میں چند بنیادی اور اہم پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کی جائے گی۔ ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا ‘الخیر اسکول’ قانونی طور پر رجسٹرڈ ادارہ تھا، اس کی عمارت کے حفاظتی انتظامات کس حد تک معیار کے مطابق تھے، اور کیا متعلقہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا تھا یا نہیں۔

 

اس رپورٹ کا مقصد یہ طے کرنا بھی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کو رجسٹریشن اور این او سی جاری کرتے وقت عمارت کی پائیداری کے جو تقاضے طے کیے جاتے ہیں، آیا ان پر نظر رکھی گئی تھی یا پھر کسی سطح پر غفلت برتی گئی۔


انتظامی خامیوں اور تعلیمی ریگولیشن کا جائزہ

 

نجی تعلیمی اداروں میں حفاظتی معیارات کی کمزوری اور ریگولیٹری اداروں کی سست روی ہمیشہ سے ایک سنجیدہ چیلنج رہی ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ رہائشی یا غیر محفوظ عمارات میں اسکول قائم کر لیے جاتے ہیں جہاں سینکڑوں بچوں کی زندگی کھلے عام خطرے میں ہوتی ہے۔

 

جب تک ریگولیٹری اتھارٹیز کی جانب سے صرف کاغذی کارروائی کے بجائے باقاعدہ تکنیکی اور فزیکل انسپکشن کو یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک اس قسم کے خطرات کو ختم کرنا ناممکن رہے گا۔

 اس مرحلے پر سیکریٹری تعلیم کا کڑا ایکشن اور کل تک رپورٹ طلب کرنا انتظامی حساسیت کو تو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس کا حقیقی اثر تبھی ہوگا جب غفلت میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Related Articles