پشاور اسکول سانحہ: پی ٹی آئی حکومت  کے 13 سالہ دعوے خود بولنے لگے، تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی خستہ حالی سوالیہ نشان بن گئی؟

پشاور اسکول سانحہ: پی ٹی آئی حکومت  کے 13 سالہ دعوے خود بولنے لگے، تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی خستہ حالی سوالیہ نشان بن گئی؟

پشاور اسکول سانحے نے خیبرپختونخوا میں 13 سالہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار اور نگرانی کے مؤثر نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

صوبے میں تحریک انصاف کے طویل 13 سالہ دور حکومت کے دوران تعلیم کے شعبے میں مختلف اصلاحات، نجی اسکولوں کی مانیٹرنگ اور طلبہ کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ 

تاہم دیر کالونی کے افسوس ناک واقعے کے بعد یہ سوال سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا تعلیمی اداروں کی عمارات کے باقاعدہ معائنے اور ان کے مکمل طور پر محفوظ ہونے کی تصدیق کا نظام عملی طور پر کتنا مؤثر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور اسکول سانحہ: پی ٹی آئی حکومت  کے 13 سالہ دعوے خود بولنے لگے، تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی خستہ حالی سوالیہ نشان بن گئی؟

پی ٹی آئی کے 13 سالہ حکومت وزرائے اعلیٰ، کرپشن، لوٹ مار میں ہی مصروف رہی جبکہ ساختی ترقی کی راہ چھوڑ کر احتجاج اور اسلام آباد پر چڑھائی کی کوششوں میں صوبے میں بیڈ گورننس کی انتہا کردی۔

اب دیکھنا یہ ہے کاغذات میں موجود ضابطے اور زمینی حقائق کے درمیان پائی جانے والی خلیج اس بات کا ثبوت ہے کہ نگرانی کا یہ نظام کتنے پانی میں ہے، پی ٹی آئی کی بیڈ گورننس نے جہاں عوام کو دہشتگردی کی لپیٹ میں دے دیا وہاں تعمیر و ترقی میں مکمل ناکامی پی ٹی آئی حکومت کی بیڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس المناک سانحے کے بعد کئی اہم سوالات عوام کے سامنے سر اٹھا رہے ہیں۔ کیا الخیر اسکول کی عمارت کو تعلیمی سرگرمیوں کے لیے باقاعدہ استعمال کرنے سے قبل اس کا کوئی تکنیکی معائنہ کیا گیا تھا؟۔

کیا اس کی چھت اور دیگر تعمیراتی حصے مطلوبہ اور معیاری انجینیئرنگ اصولوں پر پورے اترتے تھے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی پر مامور متعلقہ حکام نے حفاظتی ضوابط کی پابندی کو سختی سے یقینی بنایا تھا؟

یہ وہ سلگتے ہوئے سوالات ہیں جن کے واضح جوابات انکوائری رپورٹ میں سامنے آنا لازمی قرار دیے جا رہے ہیں۔

شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کا تعین

اگر شفاف تحقیقات کے دوران کوئی بھی تعمیراتی بے ضابطگی، مجرمانہ غفلت یا حفاظتی ضوابط کی واضح خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے، تو بغیر کسی لگی لپٹی کے ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔

Related Articles