سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کی آڑ میں منشیات کی سمگلنگ کا دھندہ، فیاض الحسن چوہان کے تہلکہ خیز انکشافات

سہیل آفریدی کا لانگ مارچ کی آڑ میں  منشیات کی سمگلنگ کا دھندہ، فیاض الحسن چوہان کے تہلکہ خیز انکشافات

سینئر سیاستدان اور سابق وزیر فیاض الحسن چوہان نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران سمگلنگ اور منشیات کی نقل و حرکت بھی ہو رہی ہے اور بعض عناصر اس مارچ کو اپنے غیر قانونی کاروبار کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

آزاد ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے ذریعے منشیات، سونے اور دیگر اشیا کی سمگلنگ کی جا رہی ہے، جبکہ بعض سمگلرز اور منشیات فروش اس مارچ کو اپنے کاروباری مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہو کر کرک، پھر کوہاٹ اور اب پشاور کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم ہر آنے والے دن کے ساتھ شرکا کی تعداد، جوش اور جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے بقول صوابی پہنچتے پہنچتے صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ لانگ مارچ کے دوران عام کارکنوں اور وزیراعلیٰ، وزراء اور ارکان اسمبلی سمیت قیادت کے لیے الگ الگ طرز عمل نظر آ رہا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی سیاسی تحریک کی کامیابی کے لیے قیادت اور کارکنوں کے درمیان نظریاتی، ذہنی، عملی اور جذباتی تعلق ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے بھی بانی تحریک انصاف کے ماضی کے دھرنے جیسا طرز عمل اختیار کیا ہے۔ ان کے بقول لکی مروت سے کرک پہنچنے کے بعد وزیراعلیٰ ایک رکن اسمبلی کے محل میں قیام پذیر ہوئے جبکہ عام کارکن زمین پر دریوں پر سوتے رہے۔

سابق وزیر نے الزام عائد کیا کہ قیادت وی وی آئی پی رہائش گاہوں میں قیام کرتی ہے جبکہ عام کارکنوں کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں، جبکہ سرکاری ہیلی کاپٹر اور دیگر وسائل بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کی بگڑتی صورتحال،ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی گورنر راج سمیت اہم امور پر مشاورت

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ایسے ماحول میں کوئی انقلابی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی اور کارکنوں کے اندر جوش و جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر لانگ مارچ کے حوالے سے جعلی، پرانی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خود پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں اور سوشل میڈیا پر موجود حامیوں نے بھی جعلی ویڈیوز اور پرانی تصاویر شیئر نہ کرنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ اس سے لانگ مارچ کے بیانیے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرک اور کوہاٹ میں بعض کیمپ خالی دکھائی دے رہے ہیں جبکہ جو کارکن موجود ہیں وہ محدود سہولیات میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض کارکن جنید اکبر اور شاہد خٹک سے شکایت کرتے رہے کہ وہ 15، 15 اور 20، 20 گھنٹے سے بھوکے ہیں اور انہیں کھانا فراہم نہیں کیا جا رہا۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے تقریباً 93 ارکان اور تقریباً 54 وزراء و مشیران پر مشتمل کابینہ کے باوجود وزیراعلیٰ سمیت صرف چند افراد ہی کنٹینر پر نظر آ رہے ہیں۔ ان کے بقول باقی ارکان لانگ مارچ سے دور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2 ہزار، 3 ہزار یا 4 ہزار افراد کے اجتماعات سے انقلاب نہیں آتے اور لانگ مارچ میں عوامی شرکت مسلسل کم ہو رہی ہے۔

سابق وزیر نے دعویٰ کیا کہ ریاست نے سیاسی طور پر پی ٹی آئی کو ایسی صورتحال میں پہنچا دیا ہے جہاں اس کی عوامی حمایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق صوابی تک پہنچتے پہنچتے مارچ کے شرکا مزید تھک جائیں گے۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ خیبر پختونخوا سے باہر لانگ مارچ لے جانے کی کوشش پی ٹی آئی، صوبائی حکومت، پارٹی اور اس کے گروہ کے لیے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور بانی تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاست اور وفاق کے ساتھ تعاون کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے شہری، پولیس اہلکار اور افسران دہشت گردی میں شہید ہو رہے ہیں، اس لیے صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے۔

یہ بھی پڑھیں: گاندھی چوک پر ذلیل و خوار ورکر کے لیے ایک اور چونا, سہیل افریدی کا 3 دن خیبر پختونخواہ کے اندر ہی لانگ مارچ کا اعلان

فیاض الحسن چوہان نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے طالبان، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کو پی ٹی آئی کی سیاسی صورتحال سے جوڑتے ہوئے سخت الزامات عائد کیے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے دوران ایسے عناصر بھی سرگرم ہیں جو سمگلنگ اور منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق پہلے جو اشیا کسٹمز، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے ناکوں کی وجہ سے منتقل کرنا مشکل تھا، بعض عناصر اب لانگ مارچ کے راستے کے ذریعے پشاور تک منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سابق وزیر نے کہا کہ ان کے مطابق لانگ مارچ کے ذریعے منشیات، سونے اور دیگر اشیا کی سمگلنگ کی جا رہی ہے اور اس عمل سے بعض عناصر اپنے غیر قانونی کاروبار کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے بانی تحریک انصاف کے سابق سیاسی بیانیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں وہ وزیراعظم بننے کے بعد ’’مجھے کام نہیں کرنے دیا گیا‘‘ کہنے والے سیاستدانوں پر تنقید کرتے رہے، لیکن اب خیبر پختونخوا کی حکومت بھی اسی نوعیت کی شکایات کر رہی ہے۔

انہوں نے ’’Absolutely Not‘‘کے سیاسی بیانیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی بھی اسی طرز کا مؤقف اختیار کر رہے ہیں، تاہم ان کے مطابق مستقبل میں انہیں انہی قوتوں سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے جن کے خلاف وہ سخت بیانات دے رہے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے دعویٰ کیا کہ ریاست پی ٹی آئی کو کھلا سیاسی میدان دے رہی ہے تاکہ پارٹی اپنے فیصلوں اور طرز عمل کے نتائج خود دیکھے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی اور سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کے معاملے میں سہیل آفریدی کو توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Related Articles