وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پشاور میں پیش آنے والا واقعہ دلخراش ہے، اسکولوں کی عمارتوں کا آڈٹ ہونا چاہیے اور عمارتوں کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو نجی تعلیمی اداروں کو قرض فراہم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف چیکنگ اور سزا دینے کے بجائے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے دیگر اقدامات بھی ضروری ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمارتوں کا آڈٹ کرایا جائے تو ہر محکمہ پیسے لے گا، تاہم اسکولوں کی عمارتوں کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔ حکومت کو عمارتوں کو بہتر بنانے میں بھی مدد دینی چاہیے، کیونکہ نجی اداروں نے ملک میں تعلیم کا 60 فیصد بوجھ اٹھایا ہوا ہے اور بعض مقامات پر صرف 3،3 مرلے کی عمارتوں میں اسکول قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی اسکول کو این او سی جاری کرنے سے پہلے واضح طریقہ کار ہونا چاہیے تاکہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حوالے سے ضروری شرائط پوری کی جا سکیں۔
رانا ثناء اللہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حوالے سے کہا کہ ان کے مستقبل کے بارے میں کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی، تاہم ان کے خلاف متعدد مقدمات ہیں جن کا انہیں سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑے گا یا نہیں، اس بارے میں پیش گوئی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئینی طور پر سہیل آفریدی کو ہٹایا جا چکا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ 6 ماہ بعد اسمبلی بحال ہو جائے گی، تاہم ایمرجنسی کے لیے کوئی ٹائم فریم نہیں۔ ان کے مطابق اسمبلی کی بحالی کے بعد بھی ایمرجنسی کے تحت لایا گیا نظام ہی چلے گا اور ایسا قائد ایوان منتخب ہوگا جو دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہو۔
دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جنرل باجوہ نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ طالبان کو واپس آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ان کے بقول جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ 30 سے 35 ہزار افراد ہیں، اگر انہیں آنے نہیں دیں گے تو انہیں کہاں رکھا جائے گا، جبکہ 7 سے 8 ہزار افراد ہتھیار ڈال دیں گے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد پوری قوم دہشت گردی کے خلاف یکسو ہوئی اور آپریشن ضربِ عضب شروع ہونے تک دہشت گردی ختم ہو چکی تھی۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کا مؤقف تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ دہشت گردوں سے کیسے بات کرنی ہے، لیکن قطر، چین اور دیگر ممالک بھی دہشت گردوں سے بات کرکے دیکھ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ آپریشن کی وجہ سے لوگوں کو بے گھر کیا جائے گا۔ دہشت گردوں سے مذاکرات یا جرگہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ دہشت گردوں نے ایسے ہی معاملات سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے ہمدردی رکھنے والوں کو راستے سے ہٹایا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ان کے مطابق اگر پاکستان تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہو جائے اور اس مؤقف سے پیچھے ہٹ جائے تو سیاسی مسائل کا حل بھی نکالا جا سکتا ہے۔