مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کا اجرا ختم، اب صرف ای پاسپورٹ بنے گا

مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کا اجرا ختم، اب صرف ای پاسپورٹ بنے گا

محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن نے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کا اجرا ختم کرکے صرف ای پاسپورٹ لازمی قرار دے دیا ہے، جس کی فیس پہلے کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق جمعے سے ملک بھر میں ہوگا، جس کے بعد پاسپورٹ بنوانے والے شہریوں کو زیادہ فیس ادا کرنا پڑے گی۔

ذرائع کے مطابق مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی نارمل فیس 4 ہزار 500 روپے تھی، جبکہ ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 9 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ارجنٹ مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی فیس 7 ہزار 500 روپے تھی، جو اب ای پاسپورٹ کے لیے 15 ہزار روپے ہوگی۔

فاسٹ ٹریک مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی فیس 12 ہزار 500 روپے تھی، جبکہ ای پاسپورٹ کی فاسٹ ٹریک فیس 22 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ فیس 5 سال کی میعاد اور 36 صفحات پر مشتمل پاسپورٹ کے لیے ہے، جبکہ 72 صفحات پر مشتمل پاسپورٹ کے لیے بھی اسی تناسب سے فیس ادا کرنا ہوگی۔

پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ذرائع کے مطابق محکمے نے 2025 میں مجموعی طور پر 55 لاکھ 72 ہزار 130 پاسپورٹ جاری کیے، جو ملکی تاریخ میں ایک سال کے دوران جاری ہونے والے پاسپورٹس کی سب سے زیادہ تعداد بتائی گئی ہے۔ ان میں نارمل فیس پر مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کے 32 لاکھ 75 ہزار 263، ارجنٹ فیس پر 18 لاکھ 39 ہزار 487 اور فاسٹ ٹریک فیس پر 2 لاکھ 76 ہزار 789 پاسپورٹ شامل تھے، جبکہ تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار ای پاسپورٹ جاری کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک نے پاکستان میں ٹیکس اصلاحات کو ’اعتدال پسندانہ‘ قرار دے دیا، نئے معاشی خطرات کی بھی نشاندہی

ذرائع کے مطابق 2024 میں 65 لاکھ 96 ہزار 520 اور 2023 میں 67 لاکھ 17 ہزار 938 پاسپورٹ جاری کیے گئے۔ اس طرح گزشتہ دو سال کے دوران مجموعی طور پر ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد پاسپورٹ جاری ہوئے، جبکہ سالانہ اوسط تقریباً 67 لاکھ پاسپورٹ بنتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ای پاسپورٹ متعارف کرانے کا مقصد دنیا کے ان ممالک کے ساتھ جدید سفری دستاویزات کے نظام سے ہم آہنگ ہونا ہے جو ای پاسپورٹ کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے اس منصوبے کے تحت 10 نئی جدید پرنٹنگ مشینیں اور 6 لیمینیٹرز فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، 232 دفاتر میں 24 گھنٹے خدمات اور بیرون ملک 93 ونڈو کاؤنٹر قائم کیے گئے ہیں، جو دن رات کام کر رہے ہیں۔

پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ذرائع کے مطابق 2024 میں صرف پاسپورٹ فیس کی مد میں 47 ارب 64 کروڑ 55 لاکھ 23 ہزار 500 روپے قومی خزانے میں جمع ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ رقم تقریباً 50 ارب روپے بتائی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2023-24 اور 2024-25 میں اوسطاً 40 ارب روپے سالانہ سرکاری خزانے میں جمع ہوئے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں دگنی آمدن ہے۔

ذرائع کے مطابق پاسپورٹ فیس کی مد میں حکومت کو سالانہ 40 سے 50 ارب روپے کی آمدن ہو رہی ہے، جبکہ یہ رقم فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) سے الگ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ای پاسپورٹ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے اور اس کی تیاری پر مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کے مقابلے میں زیادہ اخراجات آتے ہیں، اسی لیے اس کی فیس مقرر کی گئی ہے۔ تاہم، جن شہریوں کے پاس پہلے سے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ موجود ہیں، وہ اپنی میعاد ختم ہونے تک قابل استعمال رہیں گے۔

Related Articles