خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد معطل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی منظر عام پر آتے ہی حفاظتی تحویل میں چلے گئے ہیں جبکہ حکومتی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ گورنر راج کی مدت حالات کی بہتری سے مشروط ہوگی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی اختیار والی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کا سیاسی اور سیکیورٹی منظر نامہ طویل عرصے سے کشیدگی اور انتظامی کمزوریوں کی زد میں رہا ہے۔ صوبے کے اندرونی حالات، امن و امان کی خراب صورتحال اور صوبائی حکومت کی مبینہ بے اعتدالیوں کے تناظر میں وفاقی سطح پر سخت فیصلے کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر ہاؤس پر کسی بھی غیر قانونی اقدام کی صورت میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا جائے گا، فیصل کریم کنڈی
ماضی میں سیاسی چپقلش اور انتظامی مشینری کے مفلوج ہونے کی وجہ سے صوبائی اسمبلی اور حکومت مؤثر انداز میں فرائض انجام دینے سے قاصر تھی، جس کے نتیجے میں ریاست کو یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔
گورنر راج کی مدت اور انتخابات کا مستقبل
اختیار ولی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جب تک ضرورت محسوس ہوگی، اس وقت تک گورنر راج کا نفاذ جاری رہے گا اور اگر ضرورت پڑی تو یہ صورتحال الیکشن تک بھی برقرار رہ سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی منعقد ہوں گے اور اس عمل میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوگی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ معطل وزیراعلیٰ اور اراکینِ صوبائی اسمبلی تو پہلے ہی معطل تھے کیونکہ اسمبلی مؤثر طور پر کام ہی نہیں کر رہی تھی۔
سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل اور احتساب کا عمل
معطل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اختیار ولی نے بتایا کہ سہیل آفریدی اس وقت حفاظتی تحویل میں ہیں اور انہوں نے خود کو رضاکارانہ طور پر حکام کے حوالے کیا ہے۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اب قانون کے مطابق بے لاگ احتساب کا آغاز ہوگا اور کسی بھی ملوث عنصر کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
حکومتی مؤقف کے مطابق صوبے کا مجموعی نظام شدید خرابی کا شکار ہو چکا تھا اور انتظامی غفلت اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ کچھ اضلاع عملاً دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے تھے۔
صوبائی حالات اور امن و ترقی کا لائحہ عمل
حکومتی نمائندوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت کا کوئی بھی مخفی یا منفی سیاسی مقصد نہیں ہے، بلکہ تمام اقدامات کا واحد محور صوبے میں پائیدار امن کا قیام اور ترقیاتی عمل کی بحالی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے اور گڈ گورننس کی واپسی کے لیے انتظامی مشینری کو نئے سرے سے منظم کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
صوبائی سطح پر ایمرجنسی کا نفاذ اور سیاسی قیادت کا حفاظتی تحویل میں آنا اس بات کا غماز ہے کہ ریاست اندرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اب سخت اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
انتظامی خرابیوں اور سیکیورٹی کے بحران کے سدباب کے لیے قانونی اور آئینی اختیارات کا استعمال ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ اداروں کی رٹ بحال کی جا سکے۔ الیکشن کے انعقاد کو وقت پر یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے یہ اقدامات طویل المدتی استحکام کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
