کرسی نہ ملے تو ریاست پر حملے، فضل الرحمٰن کی بلیک میلنگ سیاست کا ڈرامہ بےنقاب

کرسی نہ ملے تو ریاست پر حملے، فضل الرحمٰن کی بلیک میلنگ سیاست کا ڈرامہ بےنقاب

خیبر پختونخوا میں بدامنی، دہشت گردی اور ترقیاتی فنڈز کی خردبرد پر سیاست چمکانے والے فضل الرحمٰن کا ماضی اور حال خود ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کر رہا ہے۔ 

صوبے میں طویل عرصے سے حکومتی رٹ اور بدامنی کا رونا رونے والے فضل الرحمن سے قوم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ سابقہ فاٹا اور کے پی کے کی بربادی کی اصل بنیاد کس نے رکھی۔؟

فاٹا کی محرومیاں اور تیرہ سالہ سیاہ دور

 فضل الرحمٰن اب صوبائی حکومت اور وفاق پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سابقہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کے پسماندہ اضلاع کو بنیادی حقوق، فنڈز اور ترقی سے محروم رکھنے میں سب سے بڑا ہاتھ ان ہی جماعتوں کا ہے جو سالہا سال تک اقتدار کے مزے لیتی رہیں۔

 اصولوں کی سیاست یا موقع پرستی؟

  فضل الرحمن کی پوری سیاست کا محور صرف اور صرف کرسی اور حصہ ہے۔جب تک انہیں من پسند وزارتیں یا سیاسی رول ملتا رہے، نظام ٹھیک رہتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :’نئے سیٹ اپ میں حصہ نہ ملا تو رونا شروع کر دیا‘خواجہ آصف نے فضل الرحمن کی اصلیت بے نقاب کر دی

جیسے ہی ریاست دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرے یا انہیں اقتدار سے باہر ہونا پڑے، وہ ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔

جو رہنما کل تک پی ٹی آئی کے سخت ترین ناقد تھے اور انہیں ہر برائی کی جڑ قرار دیتے تھے  آج وہی سیاسی مجبوریوں کے تحت ان ہی کے بیانیے  کو لے کر چل رہے ہیں ۔

بلیک میلنگ سیاست

پاکستان کے باشعور عوام  فضل الرحمن کی بلیک میلنگ سیاست کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ جو لوگ مذہب کے نام پر سیاست کرتے آئے ہیں لیکن عملی طور پر قومی سلامتی کے خلاف کھڑے عناصر کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں  انہیں اب مزید چھپنے کا موقع نہیں ملے گا۔

 ریاست اور عوام کا فیصلہ واضح ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے فکری و سیاسی سہولت کاروں کو اب مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔

editor

Related Articles