خود کو جمہوریت کا چیمپئن اور عوام کا خیرخواہ کہنے والے فضل الرحمٰن کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آگیا۔
فضل الرحمن نے خیبر پختونخوا کی ابتر امن و امان کی صورتحال اور حکومتی رٹ نہ ہونے کا رونا تو خوب رویا، لیکن جیسے ہی ریاست اور وفاق نے اس ناسور کے خلاف فیصلہ کن ایکشن لیتے ہوئے گورنر راج یا سخت انتظامی اقدامات کا راستہ اختیار کیا تو فضل الرحمن کی زبان ہی بدل گئی۔
درحقیقت ان کا سارا درد امن و امان کا نفاذ نہیں بلکہ اقتدار کے نئے سیٹ اپ میں اپنا من پسند حصہ اور عہدہ نہ ملنا ہے۔
صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر سیاست چمکانے والے مولانا جب خود اقتدار کے ایوانوں سے باہر ہوئے تو حواس باختہ ہو کر ریاست کے ہر اس اقدام کی مخالفت پر اتر آئے جو ملک اور صوبے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا تھا۔
فضل الرحمٰن کے والد مفتی محمود پاکستان کی مذہبی اور سیاسی تاریخ کا ایک معتبر نام تھے جنہوں نے انتہائی سادگی میں زندگی گزاری اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک چھوٹے سے گھر سے اپنی سیاست چلائی لیکن مفتی محمود کی رحلت کے بعد فضل الرحمٰن نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تو صورتحال بالکل بدل گئی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مولانا کے پاس آمدن کا کوئی واضح اور معلوم ذریعہ، بڑا کاروباری سیٹ اپ یا صنعتی یونٹ موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اسلام آباد کے زون 4 میں واقع پرتعیش فارم ہاؤس، لاہور و کراچی میں مہنگی جائیدادیں، لینڈ کروزرز کا قافلہ اور شاہانہ طرزِ زندگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
نیب کی جانب سے مختلف اوقات میں آمدن سے زائد اثاثوں اور سستے داموں سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ کے انکشافات نے ہمیشہ ان کے زہدپر سوالیہ نشان ثبت کیے ہیں۔
مدرسوں کے نظام پر کنٹرول اور سیاسی بلیک میلنگ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور وفاق المدارس پر اپنے اثر و رسوخ کو مولانا نے ہمیشہ اسٹریٹ پاورکے طور پر استعمال کیا۔
ہزاروں طالب علموں اور مدرسوں کی نیٹ ورکنگ کو سیاست میں اپنے مطالبات منوانے اور حکومتوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مدرسوں کے نام ملازمین، غریبوں اور طالبعلموں کے نام پر استعمال ہوتا ہے، جبکہ اس پاور بیس کے بدلے ملنے والی سیاسی مراعات اور فنڈز چند مخصوص خاندانوں کے حصے میں آتے ہیں۔
فضل الرحمٰن ہمیشہ دوسروں کے کندھوں پر سوارہو کر ایوانوں تک پہنچے ہیں۔ چاہے وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا دور ہو، آصف زرداری کی حکومت ہو، یا ن لیگ کی حکمرانی ، فضل الرحمان نے کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ، ڈیزل کے پرمٹ، اور وزارتیں حاصل کر کے ہمیشہ اقتدار کا حصہ وصول کیا۔