پاکستان نے سلامتی کونسل میں غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 1967ء کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی قبضے کے مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور زور دیا ہے کہ عالمی کوششوں کو ایک ایسی حتمی اور ناقابلِ تنسیخ مدت کے تعین پر مرکوز کیا جائے جس کے تحت 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر غور کرنے کے لیے منعقدہ سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک غیر قانونی قبضہ جاری رہے گا اور مظلوم فلسطینی عوام کو ان کا حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہوگا، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں پائیدار اور منصفانہ امن کا قیام قطعی طور پر ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر مشکل گھڑی میں فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے ہفتے کے دوران مسئلہ فلسطین پر خصوصی توجہ دی گئی، جہاں مختلف اجلاسوں اور بیانات میں اس بات پر واضح اور اٹل اتفاق رائے سامنے آیا کہ دو ریاستی حل بین الاقوامی سطح پر متفقہ لائحہ عمل اور منصفانہ امن کی واحد ناگزیر بنیاد ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دو ریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی عزم کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کی علاقائی سالمیت اور اس کی قابلِ عمل حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس، عملی اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
یہودی بستیوں کی توسیع اور زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کی کوششیں
سفیر عثمان جدون نے نشاندہی کی کہ قرارداد 2803، غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبہ اور نیویارک اعلامیہ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک دوسرے کو تقویت دینے والے بہترین لائحہ عمل فراہم کرتے ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے زمینی حقائق کو ناقابلِ واپسی بنانے کی دانستہ کوششیں اس عالمی اتفاق رائے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی توسیع اور خصوصی طور پر ’ای ون منصوبہ‘ فلسطینی علاقوں کے باہمی زمینی رابطے کو مکمل طور پر منقطع کرنے کا خطرناک خطرہ پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتہا پسند آبادکاروں کا تشدد، رہائشی مکانات کی مسماری، زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور جبری بے دخلی کے تمام اقدامات الحاق کو مستحکم اور امن کی تمام بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
پاکستان نے مطالبہ کیا کہ قرارداد 2334 کے مطابق یہودی بستیوں کی تمام غیر قانونی سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں، آبادکاروں کے پرتشدد اقدامات کا قلع قمع کیا جائے اور اس میں ملوث تمام ذمہ داروں کا بلا امتیاز احتساب یقینی بنایا جائے۔
اس کے علاوہ مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اشتعال انگیز اور غیر قانونی دراندازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو ہر صورت برقرار رکھنے کا مطالبہ بھی دہرایا گیا۔
غزہ میں انسانی بحران اور پناہ گزینوں کے حقوق کا تحفظ
غزہ کی ابتر صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی مسلسل اور کھلی خلاف ورزیاں، فلسطینی آبادی کا بے دریغ قتل عام اور انسانی امداد کی فراہمی پر عائد ظالمانہ پابندیاں اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں، جبکہ سرد موسم کی آمد سے متاثرہ عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافے کا شدید خدشہ ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، متاثرین تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور بڑے پیمانے پر فراہمی، نیز تباہ شدہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کا کام فوری طور پر بلا تاخیر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین کے ناگزیر اور انتہائی اہم کردار کی بھرپور حمایت کی اور واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں جبری بے دخلی اور غزہ و مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس کو تقسیم کرنے کی کسی بھی مذموم کوشش کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
کیونکہ یہ تمام علاقے ایک ہی ناقابلِ تقسیم علاقائی وحدت کا حصہ ہیں۔ سفیر عثمان جدون نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو اپنی انتظامی اور مالی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے پوری کرنے کے قابل بنانے کے لیے روکی گئی تمام فلسطینی آمدنی اور فنڈز فوری طور پر واگذار اور جاری کیے جانے چاہییں۔
یمن کی صورتحال اور سعودی عرب کی سلامتی
خطے کے دیگر اہم امور پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے سعودی عرب اور اس کے شہری و اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر حوثی شدت پسندوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ یہ حملے فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت بیرونی اور مسلح حملوں کے خلاف اپنے دفاع کے اس کے جائز حق کی مکمل توثیق کرتا ہے۔
سفیر عثمان جدون نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان یمن میں جامع اور پائیدار امن کے حصول کے لیے مذاکرات کی بحالی سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی تمام مخلصانہ کوششوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
مشرق وسطیٰ کا تنازع دہائیوں سے عالمی امن کے لیے ایک بڑا اور حل طلب چیلنج رہا ہے، جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالیوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پاکستان کا یہ مؤقف نہ صرف اس کی تاریخی خارجہ پالیسی کا عکاس ہے بلکہ یہ مظلوم فلسطینی عوام کی جائز امنگوں کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔
جب تک عالمی برادری دو ریاستی حل کے اصولوں پر حقیقی اور غیر مشروط عمل درآمد کو یقینی نہیں بناتی، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی اور جارحیت کے تسلسل نے خطے کے امن کو ہمیشہ داؤ پر لگایا ہے، اور پاکستان کی جانب سے اس فورم پر پیش کیا گیا یہ جامع لائحہ عمل عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔