بنگلہ دیش میں نئی سیاسی ہلچل، جماعت اسلامی نے بڑا قدم اٹھا لیا، بڑے بحران کا خدشہ

بنگلہ دیش میں نئی سیاسی ہلچل، جماعت اسلامی نے بڑا قدم اٹھا لیا، بڑے بحران کا خدشہ

بنگلادیش میں حالیہ عام انتخابات کے بعد سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت والے اتحاد نے 32 حلقوں کے نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے بنگلہ دیش الیکشن کمیشن میں باضابطہ شکایات جمع کرا دی ہیں، جس سے انتخابی عمل پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کی امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے ملاقات،باہمی تعلقات اور خطے کی صورتحال پر گفتگو

جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی‘ نے واضح اکثریت حاصل کی۔ الیکشن کمیشن کے سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں جیتیں، جبکہ جماعت اسلامی کے اتحاد کو 77 نشستیں ملیں۔ 300 میں سے 299 حلقوں میں پولنگ مکمل ہوئی اور مجموعی ٹرن آؤٹ تقریباً 59 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو حالیہ برسوں کے مقابلے میں قدرے بہتر سمجھا جا رہا ہے۔

طارق رحمان کی کامیابی اور حکومت سازی

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کی کامیابی کے بعد وہ ملک کے اگلے وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔ نومنتخب ارکانِ پارلیمنٹ کی حلف برداری منگل کو متوقع ہے، جس کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا عمل تیز ہو جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بی این پی کو سادہ اکثریت حاصل ہونے کے باعث مخلوط حکومت بنانے کی فوری ضرورت نہیں، تاہم اتحادی جماعتوں کو کابینہ میں نمائندگی دی جا سکتی ہے۔

جماعت اسلامی کا مؤقف

بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے ہفتے کو انتخابی نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ میں بااصول اور پُرامن اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ تاہم اتوار کو جماعت کے رہنماؤں نے 32 حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف شکایات جمع کرا دیں۔

سینئر رہنما حمید الرحمان آزاد کے مطابق ان حلقوں میں ان کے امیدواروں کو غیر منصفانہ طور پر ہرایا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ووٹنگ کے اختتام پر جعلی ووٹ ڈالے گئے، بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کو ہراساں کیا گیا، رشوت اور دھمکیوں کے واقعات پیش آئے اور کچھ مقامات پر تشدد بھی ہوا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متنازع حلقوں میں دوبارہ گنتی یا دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔

انتخابی تشدد اور سیکیورٹی انتظامات

پولیس کے مطابق انتخابی مہم کے دوران سیاسی جھڑپوں میں 5 افراد جاں بحق اور 600 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ نتائج کے اعلان کے بعد بھی بعض علاقوں میں جھڑپوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں کم از کم دو افراد جان سے گئے۔

پولیس ترجمان اے ایچ ایم شہادت حسین کے مطابق ممکنہ تشدد سے نمٹنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اہلکار تعینات اور خصوصی تربیت دی گئی تھی۔ حساس پولنگ اسٹیشنوں پر اضافی نفری، موبائل ٹیمیں اور فوری رسپانس یونٹس تعینات کیے گئے تھے تاکہ انتخابی عمل کو پرامن رکھا جا سکے۔

خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق سات خواتین براہ راست منتخب ہوئیں، جبکہ خواتین کے لیے مخصوص 50 نشستیں جماعتوں کو ان کے مجموعی ووٹ شیئر کے مطابق الاٹ کی جائیں گی۔ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے چار امیدوار بھی کامیاب ہوئے، جن میں دو ہندو شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ نمائندگی میں کچھ اضافہ ہوا ہے، لیکن خواتین اور اقلیتوں کی مجموعی تعداد اب بھی محدود ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر الیکشن کمیشن شکایات کی باقاعدہ سماعت کرتا ہے تو چند حلقوں میں نتائج تبدیل ہونے یا دوبارہ پولنگ کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، تاہم مجموعی پارلیمانی توازن میں بڑی تبدیلی متوقع نہیں۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش کی سیاست میں انقلابی تبدیلی: جماعت اسلامی کا طلبا کی نیشنل سٹیزن پارٹی سے اتحاد

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل امتحان اب نئی حکومت کے لیے ہے، اگر وہ اپوزیشن کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور شفاف تحقیقات کرائے تو سیاسی استحکام ممکن ہے، بصورت دیگر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے‘۔

بنگلادیش کی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایک طرف واضح اکثریت رکھنے والی حکومت بننے جا رہی ہے اور دوسری طرف اپوزیشن انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا رہی ہے۔ آنے والے دن طے کریں گے کہ یہ اختلاف پارلیمانی مباحث تک محدود رہتا ہے یا سڑکوں تک پھیلتا ہے۔

Related Articles