خطے میں توانائی کے شعبے میں پیشرفت ، ترکیہ اور عراق کے درمیان بڑا معاہدہ طے پاگیا

خطے میں توانائی کے شعبے میں پیشرفت ، ترکیہ اور عراق کے درمیان بڑا معاہدہ طے پاگیا

ترکیہ اور عراق نے دونوں ممالک کے درمیان خام تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی آئل پائپ لائن کو فعال رکھنے کے لیے ایک سالہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائراکتار کے مطابق یہ معاہدہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری دوطرفہ انتظام میں توسیع ہے، جس کی مدت حال ہی میں ختم ہوئی تھی۔

اس معاہدے کے تحت عراق کی واحد فعال برآمدی پائپ لائن، عراق-ترکی پائپ لائن (ITP)، بدستور کام کرتی رہے گی، ترکی کے وزیر توانائی نے بتایا کہ نئے عبوری معاہدے کے تحت یومیہ 7 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل کی ترسیل کی گنجائش برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ دونوں ممالک اس پائپ لائن کے لیے ایک طویل المدتی اور جامع معاہدے پر بھی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :نیا بجٹ : کیا سولر سسٹم اور الیکٹرک ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی ہونے والی ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ انقرہ میں عراقی وزیر تیل اور ان کے وفد کے ساتھ ہونے والی ملاقات مثبت رہی، جس کے بعد ترک سرکاری توانائی کمپنی BOTAS اور عراق کی سرکاری آئل کمپنیوں SOMO اور NOC کے درمیان ایک سالہ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

ترک حکام کے مطابق اس پائپ لائن کی مجموعی گنجائش 15 لاکھ بیرل یومیہ ہے، تاہم اس وقت اس کے ذریعے تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ خام تیل ترکی کی بحیرہ روم میں واقع سیہان بندرگاہ تک پہنچایا جا رہا ہے۔

ترکی مستقبل میں اس پائپ لائن کی مکمل استعداد سے استفادہ کرنے اور اسے جنوبی عراق کے آئل فیلڈز تک توسیع دینے کا خواہاں ہے۔

editor

Related Articles