پنجاب حکومت کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے ‘کلائمیٹ فنانس یونٹ’ منصوبے کے تحت 11 پراجیکٹ بنیادوں پر آسامیوں کا اعلان کردیا ہے، جن کے لیے ماہانہ معاوضہ 4 لاکھ روپے سے بڑھ کر ’12’ لاکھ روپے تک مقرر کیا گیا ہے۔ صرف پنجاب ڈومیسائل رکھنے والے امیدوار 13 اگست 2026 تک آن لائن درخواست جمع کراسکتے ہیں۔
کن آسامیوں پر بھرتی ہوگی؟
سرکاری اعلامیے کے مطابق مجموعی طور پر 11 آسامیوں پر بھرتی کی جائے گی۔ ان میں سب سے اہم عہدہ ‘کلائمیٹ فنانس یونٹ’ کے سربراہ کا ہے، جس کے لیے ماہانہ پیکیج ’12’ لاکھ روپے تک رکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ درج ذیل آسامیوں پر بھی درخواستیں طلب کی گئی ہیں
ماحولیاتی قانونی ماہر، فنانس اور سرمایہ کاری کے ماہر، ماحولیات و سماجی تحفظ کے ماہر، موسمیاتی ڈیٹا اسپیشلسٹ، 6 ریسرچ اینالسٹ شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق مختلف آسامیوں کے لیے ماہانہ پیکیجز4 لاکھ، 6 لاکھ اور 8 لاکھ روپے تک مقرر کیے گئے ہیں، جبکہ اعلیٰ ترین عہدے کے لیے 12 لاکھ روپے تک تنخواہ دی جائے گی۔
کون درخواست دے سکتا ہے؟
درخواست دینے کے خواہش مند امیدواروں کے لیے پنجاب کا ڈومیسائل لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ہر آسامی کے لیے تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ مہارت اور تجربے کی شرائط الگ الگ رکھی گئی ہیں، اس لیے امیدواروں کو درخواست دینے سے قبل متعلقہ اہلیت کا بغور جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
درخواست دینے کا طریقہ
تمام درخواستیں صرف آن لائن جمع کرائی جائیں گی۔
محکمہ نے واضح کیا ہے کہ ڈاک، کورئیر یا بذریعہ ہاتھ جمع کرائی گئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی۔
سرکاری ملازمین کو متعلقہ ادارے کے ذریعے درخواست دینا ہوگی اور اس کے ساتھ ‘نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ’ بھی جمع کرانا لازمی ہوگا۔
درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 13 اگست 2026 مقرر کی گئی ہے۔
ملازمتوں کی نوعیت
یہ تمام تقرریاں منصوبہ جاتی بنیادوں پر کی جائیں گی، اس لیے انہیں مستقل سرکاری ملازمت تصور نہیں کیا جائے گا۔
پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے یہ اختیار بھی محفوظ رکھا ہے کہ ضرورت کے مطابق آسامیوں کی تعداد میں اضافہ یا کمی کرسکتا ہے۔
حکومت پنجاب حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی، گرین فنانس، کاربن اخراج میں کمی اور ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
اسی حکمت عملی کے تحت ‘کلائمیٹ فنانس یونٹ’ قائم کیا جا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی موسمیاتی فنڈز، سرمایہ کاری کے مواقع اور پائیدار ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔
واضح رہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہوتے ہیں، اسی لیے ایسے اداروں میں ماہر افرادی قوت کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہوں کے ساتھ ان آسامیوں کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی اور ترقیاتی ترجیح بھی بن چکی ہے۔
خاص طور پر ‘کلائمیٹ فنانس’، ماحولیات، سرمایہ کاری اور ڈیٹا سے وابستہ شعبوں میں اعلیٰ معاوضے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت ایسے ماہرین کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتی ہے جو بین الاقوامی فنڈنگ، پالیسی سازی اور پائیدار ترقی کے منصوبوں میں کردار ادا کرسکیں۔
دوسری جانب چونکہ یہ تمام آسامیاں پراجیکٹ بنیادوں پر ہیں، اس لیے امیدواروں کو درخواست دینے سے قبل ملازمت کی مدت، معاہدے کی شرائط اور مستقبل کے امکانات کا بھی تفصیلی جائزہ لینا چاہیے۔ تاہم، متعلقہ شعبوں کے تجربہ کار افراد کے لیے یہ حالیہ عرصے کی نمایاں اور پرکشش سرکاری بھرتیوں میں شمار کی جا رہی ہیں۔