آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی 9 اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر ووٹنگ جاری ہے، جہاں 12 لاکھ سے زیادہ ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے اتوار کی صبح مظفرآباد ڈویژن کی 9 اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں مقیم مہاجرین جموں کشمیر کی 12 نشستوں پر پولنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔
پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی، جو کسی وقفے کے بغیر شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ دوسرے مرحلے میں مجموعی طور پر 21 نشستوں پر 300 سے زیادہ امیدوار انتخابی میدان میں ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی، دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
آزاد جموں کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں پر 207 امیدوار قسمت آزما رہے ہیں۔ ان نشستوں میں ضلع مظفرآباد کی 5، ضلع نیلم کی 2 اور ضلع جہلم ویلی کی 2 نشستیں شامل ہیں۔
مہاجرین جموں کشمیر کے لیے مختص 12 نشستوں پر مزید 137 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں مقبوضہ وادی کشمیر کے مہاجرین کی 6 اور جموں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی 6 نشستیں شامل ہیں۔
انتخابات کے نظرثانی شدہ شیڈول کے تحت پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں جبکہ تیسرے مرحلے میں پونچھ ڈویژن میں ووٹنگ رکھی گئی ہے۔ پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر پولنگ 10 اگست کو ہوگی۔
12 لاکھ سے زیادہ ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے
مظفرآباد ڈویژن میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 809,621 ہے، جبکہ پاکستان کے مختلف حصوں میں قائم مہاجرین کی 12 نشستوں پر 438,834 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
اس طرح انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مجموعی طور پر 1,248,455 ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
مظفرآباد ڈویژن میں 1,483 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے533 پولنگ اسٹیشن ’انتہائی حساس‘ 741 پولنگ اسٹیشن ’حساس‘،209 پولنگ اسٹیشن ’نارمل‘ قرار دیے گئے ہیں۔
مہاجرین کی 12 نشستوں کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مزید 1,057 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ پولنگ سے قبل انتخابی سامان متعلقہ مراکز تک پہنچا دیا گیا جبکہ عملے کو سخت سکیورٹی میں پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کیا گیا۔
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات،میرپور ڈویژن میں پی پی 2، ن لیگ ایک نشست پر کامیاب،غیر حتمی غیر سرکاری نتا ئج
انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن پر 8، حساس پر 6 اور معمول کے پولنگ اسٹیشن پر 4 پولیس اہلکار تعینات کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
مہاجرین کی نشستیں کن علاقوں میں قائم ہیں؟
مہاجرین جموں کشمیر کی 12 نشستیں آزاد کشمیر کے جغرافیائی حدود سے باہر پاکستان کے مختلف صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کرتی ہیں۔
ان میں سے 7 نشستوں کے بیشتر پولنگ مراکز پنجاب میں قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ایک نشست خیبر پختونخوا میں ہے۔
’جموں 6‘ کے حلقے کے ووٹر پنجاب، اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں مقیم ہیں، جبکہ ’وادی 1‘ سندھ اور بلوچستان میں تقسیم ہے۔
اسی طرح ’جموں 1‘ کے ووٹر بلوچستان، پنجاب اور سندھ میں موجود ہیں، جبکہ ’وادی 5‘ کے پولنگ مراکز پنجاب اور اسلام آباد میں قائم کیے گئے ہیں۔
مہاجرین کی یہی 12 نشستیں آزاد کشمیر کی انتخابی اور حکومتی سیاست میں ہمیشہ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 45 براہ راست منتخب نشستوں میں 33 حلقے آزاد کشمیر کی حدود اور 12 حلقے پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں 27,000 ووٹرز
راولپنڈی اور اسلام آباد میں تقریباً 27,000 مرد اور خواتین ووٹرز 3 حلقوں کے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
ان حلقوں میں’ایل اے 43 وادی 4‘،’ایل اے 44 وادی 5‘، ’ایل اے 39 جموں 6‘ شامل ہیں۔
ان نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 175 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں راولپنڈی کے 18 پولنگ اسٹیشن حساس قرار دیے گئے ہیں۔ ان 3 حلقوں میں مجموعی طور پر 34 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔
میرپور میں مسلم لیگ ن کی کامیابی
انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی، جس میں مسلم لیگ ن 9 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔
پہلے مرحلے کے نتائج کے بعد مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے نمایاں برتری حاصل کرلی، تاہم دوسرے اور تیسرے مرحلے کے نتائج یہ طے کریں گے کہ جماعت تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں آتی ہے یا اسے اتحادیوں اور آزاد امیدواروں کی حمایت درکار ہوگی۔
مظفرآباد اور مہاجرین کی 21 نشستوں پر مضبوط کارکردگی مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت کے قریب پہنچا سکتی ہے۔ اس کے برعکس پیپلز پارٹی کے لیے یہ مرحلہ پہلے مرحلے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے اور انتخابی مقابلے میں واپسی کا اہم موقع ہے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا تنازع شدت اختیار کرگیا
وفاق میں اتحادی ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے انتخابی میدان میں ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔
میرپور ڈویژن کے نتائج سامنے آنے کے بعد پیپلز پارٹی نے بعض حلقوں میں مبینہ دھاندلی، بے ضابطگیوں اور اپنے امیدواروں کے انتخابی عمل سے متعلق اعتراضات اٹھائے۔
پیپلز پارٹی نے ابتدا میں چڑھوئی، سہنسہ، نکیال اور برنالہ کے نتائج پر اعتراض کیا، تاہم بعد میں سہنسہ اور برنالہ سے متعلق تحفظات واپس لے لیے گئے۔
بعدازاں مذاکرات کا محور چڑھوئی اور نکیال کے حلقے بن گئے۔ چڑھوئی میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین کو مسلم لیگ ن کے راجہ ریاست نے شکست دی، جبکہ نکیال میں پیپلز پارٹی کے جاوید اقبال بڈھانوی مسلم لیگ ن کے راجہ ایاز احمد سے ہار گئے۔
دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے آزاد کشمیر میں متعدد ملاقاتیں کرکے تنازع کا قانونی اور سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کی، تاہم فریقین کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکی۔ دوسرے مرحلے کی پولنگ سے قبل بھی دونوں جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری رہا۔
جاتی امرا میں اہم مشاورت
وزیراعظم شہباز شریف نے جاتی امرا میں مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے ملاقات کرکے آزاد کشمیر انتخابات سمیت ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی۔
ملاقات میں پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات پر اٹھائے گئے اعتراضات، وفاقی اتحاد پر ممکنہ اثرات اور آئندہ انتخابی مراحل سے متعلق حکمت عملی زیر بحث آئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی مشاورت میں شریک ہوئے۔
مسلم لیگ ن کی قیادت نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سخت بیانات اور وفاقی حکومت کی حمایت پر نظرثانی کی تنبیہ کو سنجیدگی سے لیا ہے۔
انتخابات 3 مرحلوں میں کیوں ہو رہے ہیں؟
آزاد کشمیر کے انتخابات ابتدا میں ایک ہی روز منعقد ہونا تھے، تاہم سیکیورٹی صورتحال اور مختلف علاقوں میں احتجاج کے باعث الیکشن کمیشن نے انہیں 3 مرحلوں میں تقسیم کردیا۔
پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے حلقوں میں ووٹنگ ہوئی، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر پولنگ جاری ہے، جبکہ پونچھ ڈویژن کی نشستوں پر ووٹنگ 10 اگست کو ہوگی۔
آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر غلام مصطفیٰ مغل نے مرحلہ وار انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے۔
تحریک انصاف کا انتخابی بائیکاٹ
گزشتہ انتخابات میں آزاد کشمیر کی حکومت بنانے والی تحریک انصاف نے 2026 کے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔
تحریک انصاف نے انتخابی عمل کی شفافیت اور سیاسی حالات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے امیدوار میدان میں نہ اتارنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تحریک انصاف کی عدم موجودگی نے بنیادی مقابلہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان محدود کردیا ہے، اگرچہ مختلف حلقوں میں آزاد امیدوار اور دیگر جماعتیں بھی انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔
دوسرے مرحلے کی اصل اہمیت کیا ہے؟
آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ محض 21 نشستوں پر ہونے والی ووٹنگ نہیں بلکہ آئندہ حکومت کی تشکیل کا سب سے فیصلہ کن مرحلہ ہے۔
میرپور ڈویژن میں 9 نشستیں جیتنے کے بعد مسلم لیگ ن کو نفسیاتی اور عددی برتری حاصل ہے۔ مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں پر کامیابی کی صورت میں جماعت حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے لیے یہ مرحلہ ’کرو یا مرو‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی مظفرآباد اور مہاجرین کی نشستوں پر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرتی تو پونچھ ڈویژن کے آخری مرحلے سے پہلے مسلم لیگ ن کی برتری فیصلہ کن ہوسکتی ہے۔
مہاجرین کی 12 نشستیں ’کنگ میکر‘ کیوں ہیں؟
پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں آزاد کشمیر کے بیشتر انتخابات میں حکومت سازی کا توازن تبدیل کرتی رہی ہیں۔
یہ حلقے آزاد کشمیر سے باہر مختلف صوبوں اور شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں، اس لیے یہاں مقامی سیاسی مسائل کے ساتھ وفاق اور صوبائی حکومتوں کا سیاسی اثر بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
اگر کسی ایک جماعت نے مہاجرین کی زیادہ تر نشستیں جیت لیں تو وہ آزاد کشمیر کے اندر کم نشستیں حاصل کرنے کے باوجود حکومت سازی میں برتری حاصل کرسکتی ہے۔
اسی وجہ سے ان نشستوں کی انتخابی حیثیت اور سیاسی اثر و رسوخ پر ماضی میں بھی بحث ہوتی رہی ہے۔ بعض سیاسی اور احتجاجی حلقے ان نشستوں کے موجودہ نظام پر اعتراض کرتے ہیں، جبکہ حکومت اور انتخابی ادارے انہیں آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
شفافیت سب سے بڑا امتحان
دوسرے مرحلے میں الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج انتخابی عمل کو شفاف، پرامن اور قابل قبول بنانا ہے۔
پہلے مرحلے کے بعد دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات نے سیاسی ماحول پہلے ہی کشیدہ کردیا ہے۔ ایسے میں پولنگ اسٹیشنوں پر بدنظمی، نتائج میں غیر ضروری تاخیر یا امیدواروں کے ایجنٹوں کی شکایات انتخابی تنازع کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
نتائج کی بروقت فراہمی، پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی، گنتی کے عمل کی نگرانی اور شکایات پر فوری قانونی کارروائی انتخابات کی ساکھ کے لیے ضروری ہوگی۔